مرکزالتعلیم والدعوۃ الاسلامیہ کی تین روزہ سالانہ انجمن اختتام پذیر

Apr 17, 2017 09:38 PM IST | Updated on: Apr 17, 2017 09:38 PM IST

روپندیہی : مدارس اسلامیہ درس گاہ نبوی کے وہ چبوترے ہیں ، جہاں پر تشنگان علوم نبویہ کی آبیاری کتاب وسنت کی روشنی میں ہوتی ہے۔مدارس تربیت گاہ ہیں جہاں بچوں کو صحیح اور صاف شفاف تعلیم دی جاتی ہے جو قوم وملت، دین دنیا اور آخرت کے لئے یکساں مفید ثابت ہوتی ہے۔جمہوریہ نیپال میں اسلام کی ضوء فشاں کرنوں کو جلا انہیں مدارس سے مل رہی ہے جو کفروضلالت کی تاریکیوں کو نورتوحید سے دور کرتے ہیں۔کفروالحاد اور گوتم بدھ کے جائے پیدائش(لمبنی) میں اسلام کی روشنی کو پہنچانے والا ادارہ مرکزالتعلیم والدعوۃ الاسلامیہ تنہوا لمبنی نیپال ایک تعلیمی ،تربیتی ،دعوتی ادارہ ہے جوکم وبیش نصف صدی سے خدمات انجام دے رہا ہے جس میں تشنگان علوم نبویہ اپنی تشنگی بجھارہے ہیں ۔

تربیت کے بغیر تعلیم بے معنی تسلیم کیا جاتا ہے انسان کے اندر علم کا جوہر ہو مگر انسان اپنی مافی الضمیر کی ادائیگی میں کشمکش کا شکار ہو تو ایسے علم سے سماج ،قوم وملت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اسی نقطہ کے پیش نظر ہند ونیپال اور دیگر ممالک کے مدارس ،مکاتب وجامعات میں انجمن کا انعقاد ہر ہفتے کیا جاتا ہے تاکہ بچے اپنے جوہر کو دکھا سکیں ،مرکزالتعلیم والدعوۃ الاسلامیۃ تنہوا نیپال میں سالانہ انجمن کا انعقاد عمل میں گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ہوا جس میں بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے خطابی جوہر کی مثال پیش کی۔

مرکزالتعلیم والدعوۃ الاسلامیہ کی تین روزہ سالانہ انجمن اختتام پذیر

مرکز کے تحت چلنے والا بچیوں کا مدرسہ سمیہ للبنات میں بھی انجمن کا انعقاد عمل میں آیا اور اس میں بھی بچیوں نے بڑے تزک واحتشام کے ساتھ شریک ہوئیں اور منتخب کردہ عناوین کے تحت تقریرں پیش کیں۔اور ہر اول ،دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کو انعامات سے نوازا گیا اس شعبہ نسواں میں بھی حکم کے فرائض انجام دینے کے لئے باہر سے حکم بلائے گئے تھے۔ الحمد للہ پروگرام بہت کامیاب تھا۔

واضح رہے کہ یہ انجمن۳ روز تک چلا ، جس میں حکم کی حیثیت سے مرکز سے باہر کے علماء کو مدعو کیا گیا تھاکئی زمروں پر مشتمل یہ سالانہ انجمن بڑی ساری خصوصیتوں کا حامل تھا ۔ جس میں بچوں نے عربی،اردو،نیپالی،ہندی اور انگلش زبانوں میں تقریریں پیش کیں اور بیش بہا انعامات سے بھی نوازا گیا۔اطلاعات کے مطابق اس انجمن میں نہ صر ف اول دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات سے نوازا گیا بلکہ تشجیعی انعامات سبھی مشارکین کو دیئے گئے ۔اس سنہرے پُرمسرت موقع سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے طلباء عظام کے سرپرستوں نے بھی شرکت کی اور مرکز کے اس تربیتی اور تعلیمی خدمات پر تشفی کا اظہار کئے۔خیال رہے کہ بچوں کے اس سالانہ پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے علاقہ وجوار کے علماء کرام ،سیاسی سماجی شخصیات،عوام الناس اور ادارہ کے اراکین ومنتظمین کافی تعداد میں شریک ہوئے ۔

انجمن کے اختتامی حصے میں بچوں اور بچیوں کو حکم حضرات نے قرآن وحدیث کی روشنی نصیحتیں کیں اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم‘‘اور قرآن کی سب سے پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ (اقراء )ہے مزید کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں صفہ چبوترے کا قیام اسی مقصد کے پیش نظر عمل میں آیا تھا جہاں صحابۂ کرام تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔خود اللہ کے رسولﷺ کو سکھانے پڑھانے کے لئے اللہ نے جبریل امین کو بھیجا۔صحابیات بڑی بوڑھیوں کے پاس زانوے تلمذ تہہ کیاکرتی تھیں ،خود امہات المؤمنین اس میدان عمل میں پیش پیش تھیں۔اگر دیکھا جائے تو مرد حضرات جہاں تعلیم کے میدان میں آگے تھے وہیں خواتین بھی دوبدوش رہا کرتی تھیں۔مثال دیتے ہوئے کہا بیشمار احادیث اور فتاوے صحابیات سے مروی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابیات اور صحابہ کرام تعلیم حاصل کیاکرتے تھے۔ ہمارے صحابہ اور صحابیات اس میدان کس قدر کوشاں تھے اس کا اندازہ انکے خدمات سے لگایا جاسکتا ہے۔میدان خطابت کے شہسوار مشہور عالم دین مولانا محمد نسیم مدنیؔ رئیس مرکزالسنۃ،مولانا محمد شریف مدنیؔ ،مولانا مجیب الرحمن مدنیؔ ،مولانا صلاح الدین مدنیؔ ،مولانا شہاب الدین سلفیؔ ،مولانا محمد زماں عالیاویؔ وغیرہم شامل ہوئے اور نصائح سے نوازا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز