افغانستان کے مرزا اولانگ گاؤں میں اجتماعی قبر دریافت ، 28 لاشیں برآمد

افغان پولس نے شمالی صوبہ سر پل کے مرزا اولانگ گاؤں میں اجتماعی قبر دریافت کی ہے جن میں کم از کم 36 لوگوں کو دفن کیا گیا ہے۔

Aug 16, 2017 08:48 PM IST | Updated on: Aug 16, 2017 08:48 PM IST

مزار شریف: افغان پولس نے شمالی صوبہ سر پل کے مرزا اولانگ گاؤں میں اجتماعی قبر دریافت کی ہے جن میں کم از کم 36 لوگوں کو دفن کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ عماني نے آج بتایا کہ مرزا اولانگ گاؤں میں دو اجتماعی قبریں دریافت کی گئی ہیں، جن میں سے ایک میں 28 لاشیں ملی ہیں اور دوسری میں آٹھ لاشیں برآمد ہوئي ہيں۔ زیادہ تر مرنے والوں کے سر کٹے ہوئے ہیں۔ تمام ہلاک شدگان مرد ہیں جن میں آٹھ سے 15 سال کی عمر کے تین لوگ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مرزا اولانگ میں گزشتہ ہفتے دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے سر کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ ان دو قبروں کے علاوہ تیسری قبر کا بھی پتہ چلا ہے لیکن وہ طالبان کے مقبوضہ علاقے میں ہے۔ سکیورٹی فورس مزید ایسي قبروں کی تلاش کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے آج حملے میں مارے گئے لوگوں کا اجتماعی نماز جنازہ ادا کیا۔

افغانستان کے مرزا اولانگ گاؤں میں اجتماعی قبر دریافت ، 28 لاشیں برآمد

افغانستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ طالبان اور اسلا مک اسٹیٹ (داعش) کے دہشت گردوں نے مل کر یہ حملے کئے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے کٹر مخالف ہیں۔ تاہم، طالبان نے کمیشن کی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ حملے اکیلے کیے ہیں اور کسی بھی شہری کو نہیں مارا ہے۔ خیال رہے کہ اس خطے میں دہشت گرد جنگجوؤں کا دستہ اکثر ایک دوسرے سے وابستگی کرتا رہتا ہے، اس لئے حتمی طورپر یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ حملے کس نے انجام دیئے تھے۔

اسلامک اسٹیٹ نے سوموار کو ایک بیان جاری کرکے حملے کی قیادت کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ حملے میں 54 شیعہ مسلمان مارے گئے ہیں۔ اولانگ سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے حملہ آوروں کے ہاتھ میں طالبان کے سفید اور داعش کا سیاہ پرچم دیکھا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز