Live Results Assembly Elections 2018

معروف عالم دین وممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے، آج صبح ساڑھے تین بجے اچانک دل کادورہ پڑنے سے مولاناکاانتقال ہوگیاہےـ

Dec 07, 2018 08:00 AM IST | Updated on: Dec 07, 2018 10:29 AM IST

معروف ومقبول عالم دین، ممتازقومی وملی رہنما،دارالعلوم دیوبندکے رکن شوری اورکشن گنج کے ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے، آج صبح ساڑھے تین بجے اچانک دل کادورہ پڑنے سے مولاناکاانتقال ہوگیاہےـان کی عمر 76 برس کی تھی اور پسماندگان میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

واضح ہو کہ ان کے آبائی گاؤں میں ان کی تدفین ہوگی۔ نماز جنازہ آج سہ پہر تین بجے ادا کی جائے گی۔ان کا گاؤں کشنگنج سے 40 کلو میٹر کی دوری پرواقع ہے۔ بتادیں کہ مولانا صبح تہجد کی نماز کیلئے اٹھے تھے کہ اچانک دل کا کا دورہ پڑنے سے اس دار فانی کو الواع کہہ گئے۔

معروف عالم دین وممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی  کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال

مولانا اسرارالحق قاسمی۔ فائل فوٹو

Loading...

مولانا اسرار الحق قاسمی کے بیٹے سعود اسرار ندوی نے ان کے انتقال کی جانکاری دی ہے۔

مولاناکے بڑے داماد فیاض عالم نے بتایا کہ مولانا کل رات کسی پروگرام واپس آئے تھے اور کشن گنج کے سرکٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مولانا جب رات تین بجے تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو انہیں درد محسوس ہوا۔ انہوں نے سیکورٹی والوں کو بلوایا اور کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔جب انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جارہا تھا انہوں نے کہا میں آللہ کے پاس جارہاہوں۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کردینا۔ مولانا یہ بھی کہا کہ سب لوگ مجھے معاف کردیں اور میرے لئے مغفرت کی دعا کریں ۔

مولانا قاسمی کشن گنج سے دوبار رکن پارلیمنٹ رہے۔ کشن گنج میں اے ایم یو سنٹر کے قیام میں بہت اہم رول رہا اور پوری تحریک کی قیادت کی تھی۔ یہ سنٹر جو کٹیہار میں قائم ہونے والا کشن گنج لیکر آئے اور آخری عمر اس سنٹر کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مولانا جمعےۃ علمائے ہند (متحدہ) کے جنرل سکریٹری بھی بھی رہے تھے۔ مولانا نے مولانا وحیدالزماں کیرانوی رحمتہ اللہ کے ساتھ ملکر ملی جمعیتہ قائم کی تھی۔ اس کے بعد وہ ملی کونسل کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل بنائے گئے تھے۔ ان کی قیادت اور تنظیمی تجربہ کی بنیاد پر ملی کونسل ایک وقت ملک کی بڑی جماعت بن گئی تھی۔

مولانا قاسمی جو دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ تھے ،انہوں نے ملی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن قائم کیا تھا۔ جس کے تحت فلاحی کام کئے جاتے تھے۔ ملک میں متعدد مدارس و مکاتب چل رہے تھے۔ مولانا نے عصری تعلیم کے میدان میں بھی کام کیا تھا ۔ انہوں نے کشن گنج کے اپنے آبائی گاؤں میں لڑکیوں کا بارہویں کلاس کا ایک معیاری اسکول قائم کیا تھا ۔ جس کا معیار دینی تعلیم کے ساتھ کسی بھی معیاری اسکول سے کم نہیں ہے۔اسی کے ساتھ مولانا ہندوستان میں پھیلے سیکڑوں مدارس کے سرپرست تھے اور مدارس کے پروگراموں میں شرکت کو ترجیح دیتے تھے۔

انپٹ  نیوز ایجنسی یواین آئی کے ساتھ

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز