مسلمانوں کو دوسروں پر تبصرہ کرنے اور غصہ اتارنے سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے مزید کہا کہ آج مسلمان شرکیات،بدعات،دھوکہ،جھوٹ،غبن، غیر اسلامی تہذیب،اختلاف وانتشار اور بے شمار غیر فطری اور غیر انسانی حرکتوں کا شکار ہے

Mar 25, 2017 02:58 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 03:01 PM IST

نئی دہلی : اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ ہم تم لوگوں کو دشمنوں کے خوف،بھوک اور پیاس،جان ومال اور پھلوں کی کمی کے ذریعہ آزمائیں گے اور اس آزمائش میں ان مسلمانوں کو خوشخبری ہے جو مصیبت پڑنے اور پریشانی اور نقصان کے حالات میں’’ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون‘‘ پڑھتے ہیں یعنی مسلمان ہر حالت میں یہ احساس رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی کی جانب لویا جانے والا ہے۔اللہ کو اس طریقہ پر یاد رکھنے والوں پر اللہ کی رحمت و برکت کا نزول ہوتا ہے اور وہ باعزت زندگی گزارتا ہے۔لیکن اس کے برعکس آج ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی تاویل کرتے ہیںاور اس کے نتیجہ میں آنے والی مصیبتوں کا دوش دوسروں کے کندھے پر ڈال دیتے ہیں اور ان نازک حالات میں بھی اپنی حالت زار اور بداعمالیوں پر نظر ثانی کرکے اپنی اصلاح نہیں کرتے ۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق،جوگابائی میں کیا۔مولانا مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے نازک حالات کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لے رہے تھے۔مولانا نے مزید کہا کہ آج مسلمان شرکیات،بدعات،دھوکہ،جھوٹ،غبن، غیر اسلامی تہذیب،اختلاف وانتشار اور بے شمار غیر فطری اور غیر انسانی حرکتوں کا شکار ہے اور اس کے باوجود نازک حالات پر تلملاتا اور آہ وبکا کرتا ہے اور بداعمالیوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خراب حالات کا ذمہ دار اپنے دشمنوں کو بتاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ہی حقیقی مسلمان نہیں رہا۔ یوپی الیکشن میں اپنے انتشار کے نتیجہ میں وہ ناکام ہوا تو وہ اب EVM کو دوش دے رہا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دماغ کی مشین ہی خراب ہوچکی ہے اور ہم غلامی کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے ، خود ہمارے لیڈران ہمارا اور قوم کا سودہ کرکے مختلف پارٹیوں کے ہاتھوں بک جاتے ہیں اور ہم پھر بھی دوسروں کو کوستے نظر آتے ہیں۔

مسلمانوں کو دوسروں پر تبصرہ کرنے اور غصہ اتارنے سے زیادہ خود کو بدلنے کی ضرورت : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا نے مزید فرمایا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی کمزوری ہمارا انتشار اور اختلاف ہے۔ ہمارے لئے موجودہ حالات سے نپٹنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن وسنت،توحید واتباع اور اسلامی شریعت کے حقیقی تصور کے تحت آپس میں متحد ہوجائیں ورنہ حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں سچے مسلمان بنیں اور اختلاف پیدا کرکے کمزور ہونے سے بچیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے بعض افراد خود ہی شرپسند عناصر سے ہاتھ ملا کر خود ہماری ہی صفوں میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کا سامان تیار کررہے ہیں اور ہم نے اسلام کی جڑوں اور بنیادی عقائد کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور قرپرستی، بدعات وخرافات ہمارا شیوہ بن گئے ہیں۔ہماری مساجد کی ایک ایک صف میں کئی کئی طریقوں سے نماز ادا کی جاتی ہے لیکن اسلامی طریقہ اور سنت رسول کے مطابق نمازیں اداکرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں اور وہ بھی اتنے کوتاہ اور لاپرواہ ہیں کہ اسلامی احکامات کو نظر اندازکرڈالتے ہیں اور نمازوں کی پابندی تک نہیں کرتے۔

مولانا نے سنن ترمذی کی صحیح حدیث کی روشنی میں موجودہ حالات کا بنیادی حل بھی پیش کیا جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم اللہ کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور اگر ہم اللہ کے دین اور اسلامی احکامات کی حفاظت کریں گے تو اللہ کو اپنا محافظ پائیں گے۔ مزید فرمایا کہ جب ہمیں مدد مانگنی ہو یا سوال کرنا ہو تو صرف اللہ ہی سے سوال کریں اور اس بات کو اپنے دل ودماغ میں اچھی طرح بٹھلا لیں کہ اگر ساری دنیا بھی متحد ہوکر ہمیں نفع یا نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی الا یہ کہ اللہ نے ہمارے مقدر میں کوئی نفع یا نقصان رکھا ہو۔اس وجہ سے ہمیں تمام معاملات میں اللہ پر بھروسہ اور اعتمادکرنا چاہئے اور سچا مسلمان بن کر زندگی گزارنی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز