افغان بحران -مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی امن و امان کا شرعی حل پیش کرتا ہے

Jul 12, 2018 12:19 PM IST | Updated on: Jul 12, 2018 01:44 PM IST

جدہ :ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ بنانئے کیلئے امریکہ اب سعودی عرب کواستعمال کررہاہے۔اس سے پہلے وہ خود بھی کوشش کرچکا ہے ۔گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ افغان طالبان کو افغان سر کار سےامن کیلئے گفت و شنید کرنی چاہئے۔ اسی سلسلہ میں اب سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی علما کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا ہے جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کر کے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔

شہزادہ خالد الفیصل نے اس کانفرنس کی سربراہی کی۔ کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے سربراہ يوسف بن احمد العثيمين کا کہنا تھا کہ یہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے پر امن حل کا شرعی حل پیش کرتا ہے۔بی بی سی کے مطابق اس اعلامیہ میں افغانستان میں موجود گروہوں سے جنگ بندی کر کے تشدد، تفرقے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا’ ’ہم افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک معاہدہ کریں اور مذاکرات کا اغاز کریں‘‘۔

افغان بحران -مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی امن و امان کا شرعی حل پیش کرتا ہے

تصویر: ٹولو نیوز

شاہ سلمان افغانستان میں قیام امن کے لیے سعودی عرب اور او آئی سی کے اقدام سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔اس سے پہلے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ افغانستان کے طالبان نے شاید پہلی مرتبہ اسلامی ملک سعودی عرب کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ وہ ایک اسلامی ملک اور ان کے علما سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ ’کفر اور اسلام کی جنگ میں وہ امریکہ جیسے حملہ آوار کا ساتھ دے گا۔‘

سعودیوں سے ناراضی کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے افغانستان میں امن سے متعلق دنیا بھر کے علما کی اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس کا انعقاد ہے جس میں پہلے تو لڑائی کے خلاف فتوے کی توقع تھی لیکن اب محض اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ طالبان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ پہلے پاکستان اور بعد میں افغانستان میں وہاں کے علما کی جانب سے اپنے اپنے ممالک میں لڑائی اور پرتشدد کارروائیوں کا غیراسلامی قرار دینا بھی ہے۔اس سے خدشہ ہے کہ افغان طالبان کا لڑائی کو جہاد قرار دینے کا جواز چھین لیا جانا ہے۔ یہ طالبان کے لیے یقیناً اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز