آج بھی لوگ ذات پات کی ذہنیت کے دام میں ، صدارتی انتخابات کا بھی دلت کرن کردیا گیا : میرا کمار

Jul 01, 2017 06:01 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 06:35 PM IST

بنگلور: صدارتی انتخابات کو دو دلتوں کے درمیان 'ٹکراؤ بناکر پورے ملک میں چل رہی بحث پرافسوس ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن کی صدارتی امیدوار میرا کمار نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ طبقہ بھی ذات پات کی ذہنیت سے اب تک نکل نہیں پایا ہے ۔ محترمہ کمار نے کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) کے ممبران اسمبلی سے اپنے حق میں ووٹ کرنے کی اپیل کرنے کے بعد یہاں صحافیوں کو بتایا کہ اس طرح کی بحث شرمناک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں بہت فکر مند ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ایسی بحث سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ 2017 میں جب ملک جدید دور میں داخل ہو چکا ہے تب بھی لوگوں کی سوچ کیسی ہے ۔ اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی ذات پات کی ذہنیت سے نکل نہیں پائے ہیں ۔ میں انتہائی تکلیف کے ساتھ ایسا محسوس کر رہی ہوں۔ میں فکر مند ہوں کہ کیوں ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا سوال اس سے قبل کے صدارتی انتخابات میں کیوں نہیں اٹھایا گیا جب اعلی ذات کے لوگ امیدوار تھے ۔ اس سے قبل کے انتخابات میں اس طرح کی بحث نہیں ہوئی اور لوگ صدارتی امیدواروں کے بارے میں ہی بحث کرتے تھے۔

آج بھی لوگ ذات پات کی ذہنیت کے دام میں ، صدارتی انتخابات کا بھی دلت کرن کردیا گیا : میرا کمار

سابق لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ اس سے قبل لوگ صدارتی امیدوار کی ذات کے بارے میں بحث نہیں کرتے تھے ۔ امیدوار کے کردار، تجربہ، قابلیت وغیرہ کی بحث کی جاتی تھی ۔ لوگ کبھی یہ بحث نہیں کرتے تھے کہ امیدوار کا تعلق کس ذات سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیکن جب میں اور مسٹر رام ناتھ كووند انتخابات کے لئے کھڑے ہوئے تو ذات کے معاملےمیں بحث شروع ہو گئی اور اس کے علاوہ کوئی دوسری چیزوں کا ذکر ہی نہیں کرتا۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ تمام لوگ معاشرے اور قوم کی ترقی چاہتے ہیں، لوگ سہولیات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری سوچ وسیع ہو اور یہ ذات پر مبنی نہ ہو لیکن ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں۔

صدارتی امیدوار نے کہا کہ ذات پات کے درمیان اب بھی بہت زیادہ بھید بھاؤ هے ۔ دلتوں کو پسماندہ اور حقیر سمجھا جاتا ہے۔ یہ بہت افسوسناک اور شرمناک ہے کہ ملک کے سب سے اعلی انتخابات کا بھی دلت كرن کر دیا گیا ہے ۔ ملک کو اس طرح کی سوچ سے باہر نکلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے ساتھ ہو رہے امتیازات اور ان پر کئے جا رہے مظالم کے خلاف لوگوں کا کھڑا ہونا تو خوش آئند ہے لیکن صدارتی انتخابات میں ذات کے مسئلے کو لانا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز