متنازع ٹویٹ کی وجہ سے ترک دوشیزہ سے چھنا ملکہ حسن کا تاج ، پڑھیں کیا کہا تھا اس نے ؟

ترکی میں حکام نے ایک 18 سالہ دو شیزہ جسے ملک میں ہونے والے مقابلہ حسن میں ’ترکی کی ملکہ حسن‘ قرار دیا تھا ایک متنازع ’ٹویٹ‘ سامنے آنے کے بعد اسے اس ٹائٹل سے محروم کردیا ہے۔

Sep 24, 2017 02:40 PM IST | Updated on: Sep 24, 2017 02:41 PM IST

انقرہ : ترکی میں حکام نے ایک 18 سالہ دو شیزہ جسے ملک میں ہونے والے مقابلہ حسن میں ’ترکی کی ملکہ حسن‘ قرار دیا تھا ایک متنازع ’ٹویٹ‘ سامنے آنے کے بعد اسے اس ٹائٹل سے محروم کردیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 18 سالہ عطر اسان نے گذشتہ جمعرات کو ایک مقامی مقابلہ حسن میں حصہ لیا اور اسے ملک کی 2017ء کی ملکہ حسن قرار دیا گیا تھا۔ مگر مقابلے کا اہتمام کرانے والی کمیٹی کو بعد ازاں معلوم ہوا کہ عطر اسان نے اپنی ایک سابقہ ’ٹویٹ‘ میں 15 جولائی 2016ء کو ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی صدر طیب ایردوغان کا تختہ الٹنے کی سازش کی حمایت کی تھی۔

ترک حکام نے سان کی ٹویٹ کو ناکام انقلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے شہریوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔ عطر سان کو چین میں ہونے والے ایک مقابلہ حسن میں ترکی کی نمائندگی کرنا تھی مگر متنازع ٹویٹ نے نہ صرف اس کا مقامی سطح پر ملکہ حسن کا لقب چھین لیا بلکہ عالمی ملکہ حسن کے مقابلے میں حصہ لینے سے بھی محروم کردیا۔

متنازع ٹویٹ کی وجہ سے ترک دوشیزہ سے چھنا ملکہ حسن کا تاج ، پڑھیں کیا کہا تھا اس نے ؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق عطر سان نے 2016ء کے وسط میں صدر ایردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا مذاق اڑایا تھا۔ ترکی میں ملکہ حسن کا مقابلہ کرانے والی کمیٹی نے متنازع ٹویٹ کے بعد کئی گھنٹے تک عطر سان سے تفتیش کی ہے۔مقابلہ حسن منعقد کرانے والی کمیٹی کے ڈائریکٹر جان صاندقجی اوگلو کا کہنا ہے کہ ہم دنیا بھر میں ترکی کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں، ایسے پیغامات جن سے ترکی کی عالمی سطح پر شہرت کو نقصان پہنچے کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز