عراق میں پچاس لاکھ سے زیادہ بچوں کو انسانی مدد کی ضرورت: اقوام متحدہ

Jun 22, 2017 10:58 AM IST | Updated on: Jun 22, 2017 10:58 AM IST

بغداد۔ اقوام متحدہ نے عراق میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے ساتھ لڑائی کو جدید تاریخ کا سب سے وحشیانہ واقعہ بتایا اور کہا ہے کہ یہاں 50لاکھ سے زیادہ بچوں کو فوراً انسانی مدد پہنچائے جانے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ چائلڈ فنڈ(یونیسیف) نے ایک بیان میں کہا،’’پورے عراق میں بچوں کو دہشت گردی اور ناقابل تصورتشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جدید تاریخ کی سب سے وحشیانہ کارروائی میں وہ مارے جا رہے ہیں،زخمی ہو رہے ہیں،ان کا اغوا کیا جارہا ہے اور یہاں تک کہ انہیں گولی چلانے اور قتل کرنے پر بھی مجبور کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق،موصل میں آئی ایس کے دہشت گرد بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے کنبوں کو یہاں سے جانے سے روکا جارہا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم کے اندازے کے مطابق موصل میں تقریباً 10لاکھ شہری بےحد خطرناک حالات میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ عراق کے زیادہ تر علاقوں کو قبضے میں لینے کے بعد آئی ایس کے دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے حملوں میں 1000سے زیادہ بچوں کی موت ہوگئی ہے اور 1100سے زیادہ بچے یا تو زخمی یا معذور ہوگئے ہیں۔ اس دوران ہوئے تشدد کے واقعات میں کم از کم 4650بچے اپنے خاندانوں سے دور ہوگئے۔

عراق میں پچاس لاکھ سے زیادہ بچوں کو انسانی مدد کی ضرورت: اقوام متحدہ

عراقی پناہ گزیں: فائل فوٹو

قابل ذکر ہے کہ 2015کے بعد امریکہ اور اتحادی ملکوں کی مشترکہ کارروائی میں عراق کے زیادہ تر شہروں کو آئی ایس کے قبضے سے آزاد کرا لیا گیا ہے۔امریکی اتحادی فوج کی حالیہ کارروائی میں موصل شہر بھی آئی ایس کے قبضے سے آزاد ہونے کے قریب ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز