ترکی میں سات ہزار سے زائد ملازمین برخاست

Jul 15, 2017 02:47 PM IST | Updated on: Jul 15, 2017 02:47 PM IST

انقرہ۔ ترکی نے گزشتہ سال کی ناکام بغاوت کی کوششوں میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریبا سات ہزار سے زیادہ پولس، وزارتوں کے ملازمین اور تدریسی عملہ کو برخاست کر دیا ہے۔ حکومت نے یہ کارروائی عدلیہ، پولس اور تعلیم سے متعلق سرکاری اداروں میں ہم آہنگی لانے کے لئے کی ہے۔ ترکی میں اس واقعہ پر ایک سال مکمل ہونے کو ہے ، جس میں کچھ بے قابو فوجیوں نے عمارتوں پر بم حملہ کیا تھا اور عام شہریوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ ترک حکام نے اس بغاوت کی کوششوں کے لئے مسلم مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کو مورد الزام ٹھہرایا تھا ۔ اس بغاوت کے ذریعہ جولائی 2016 میں ترک صدر رجب طیب اردوگان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، امریکہ میں رہنے والے مولوی فتح اللہ گولن نے اس بغاوت میں کسی بھی کردار سے انکار کیا تھا۔اس کے بعد سے امریکہ نے گولن کی حوالگی کے ترکی کے مطالبے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ملازمین کو برخاست کرنے کا حکم پانچ جون کو دیا گیا تھا جسے جمعہ کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا۔

واضح ر ہے کہ 16 جولائی 2016 کو ہونے والے اس تشدد میں 250 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ برخاست ملازمین میں 2،303 پولیس افسران ، 302 یونیورسٹی کے اساتذہ ، 342 ریٹائرڈ ملازمیں اور فوجی شامل ہیں۔ بغاوت کی کوششوں کے بعد کی کارروائیوں میں ترکی نے پہلے ہی ڈیڑھ لاکھ افسران کو برطرف کر دیا ہے اور 50 ہزار سے زائد افراد کو فوج، پولس اور دوسرے شعبوں سے گرفتار کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب اردوگان اس کارروائی کا سہارا لے کر اپنے سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکی میں سات ہزار سے زائد ملازمین برخاست

سولہ جولائی دوہزار سولہ کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں بغاوت کی ایک ناکام کوشش کے دوران فوجی گاڑی کے سامنے ایک تباہ شدہ گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز