یوم غضب : تمام تر اسرائیلی بندشوں کی باوجود 30 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے قبلہ اول میں ادا کی نماز جمعہ

مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینیوں نے جتّھوں کی شکل میں جمعہ کے روز مسجد اقصی کا رخ کیا۔فلسطینی گروپوں کی جانب سے یومِ غضب منانے کا اعلان کیا گیا تھا

Dec 15, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Dec 15, 2017 09:19 PM IST

غزہ : مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینیوں نے جتّھوں کی شکل میں جمعہ کے روز مسجد اقصی کا رخ کیا۔فلسطینی گروپوں کی جانب سے یومِ غضب منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس موقع پر قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے جب کہ پورے شہر میں عسکری چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئیں ہیں۔ اس کے باوجود 30 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے قبلہ اول مسجد اقصی میں جمعہ کی نماز ادا کی ۔ اس موقع پر جھڑپوں کی بھی خبر ہے۔

علاوہ ازیں مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 6 دسمبر کے اعلان قُدس کے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ خیال رہے کہ ٹرمپ نے اپنے اعلان میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ احتجاجی ریلیوں کے شرکاء اور اسرائیل فوج کے درمیان جھڑپوں کی بھی خبر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جھڑپوں کے دوران قابض فوج نے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے ، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی متاثر ہوئے۔

یوم غضب : تمام تر اسرائیلی بندشوں کی باوجود 30 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے قبلہ اول میں ادا کی نماز جمعہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی فوج نے باب العامود کے علاقہ اور مسجد اقصی کے داخلی راستوں پر فلسطینیوں پر حملہ کردیا اور ان کو نماز ادا کرنے سے روکنے کی پوری کوشش کی ، جس کی وجہ سے صیہونی فوج اور نمازیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوگئیں ۔ ان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں قلندیا چیک پوسٹ کے علاوہ الخلیل اور رام اللہ شہروں میں بھی شدید جھڑپیں اور تصادم ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز