موصل کی تاریخی جامع مسجد النوری دہشت گرد گروپ داعش کے دھماکہ میں شہید

Jun 22, 2017 02:05 PM IST | Updated on: Jun 22, 2017 02:07 PM IST

موصل/ اربیل۔  موصل میں جہاں عراقی فوجی دستے نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے، دہشت گرد تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے تاریخی جامع مسجد النوری کو دھما کہ سے اڑاد یا، جس میں اس کے مینار بھی منہدم ہوگئے۔ عراق کی وزارت دفاع نے اطلاع دی ہے کہ دہشت گرد گروپ داعش نے موصل کے مغربی علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد النوری کو شہید کردیا ہے اور اس کے تاریخی اہمیت کے حامل مینار کو بھی دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ یہ وہی مسجد ہے جہاں سے تین سال قبل 2014 میں اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام کے کچھ علاقوں پر مشتمل اپنی خودساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کی رات مسجد النوری کے ڈھانچے اور مینار کی بنیادوں میں بارود نصب کردیا تھا اور پھر دھماکوں سے مسجد کی عمارت کو مسمار کردیا ہے۔ عراقی فوج اس دھماکہ کے صرف 50 میٹر کی دوری پر تھی۔ فوج نے دھماکہ کا وقت 9:35 بجے شب بتایا ہے۔ جائے وقوع کی تازہ ترین تصاویر میں مسجد اور اس کا مینار تباہ شدہ دیکھا جا سکتا ہے۔

عراقی فوجی دستے مغربی موصل میں مسجد النوری پر قبضے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کررہے ہیں لیکن داعش نے ان کے مسجد النوری کے نزدیک پہنچنے یا اس پر قبضے سے قبل ہی اس کو دھماکے سے منہدم کردیا ہے۔ داعش کا جون 2014ء سے اس تاریخی مسجد پر سیاہ پرچم لہرا رہا تھا۔ عراقی فوج گزشتہ آٹھ ماہ سے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہی ہے اور ان کی یہ کارروائی عراقی کمانڈروں اور حکام کے دعؤوں کے برعکس کافی طول پکڑ گئی ہے۔ عراقی فوج اور داعش کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر سے موصل میں جاری لڑائی کے دوران میں شہر سے ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ عراقی بے گھر ہو گئے ہیں ۔وہ موصل کے نواح میں قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں یا ملک کے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

موصل کی تاریخی جامع مسجد النوری دہشت گرد گروپ داعش کے دھماکہ میں شہید

رائٹرز

عراقی وزیر اعظم نے اپنی ویب سائٹ پر اپنے مختصر بیان میں کہا کہ" الہدبہ مینا اور النوری مسجد کو دھماکہ سے منہدم کرنا داعش کی باضابطہ شکست کا اعتراف ہے"۔ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی خبر رساں ایجنسی اعماق نے دعوی کیا کہ امریکی جنگی طیارہ نے حملہ کرکے مسجد کو شہید کیا ہے، جس پر امریکی اتحاد نے فورا بیان جاری کرکے اس دعوی کو مسترد کر دیا۔ امریکی اتحادی افواج کے ترجمان جان ڈوریئن نے ٹیلیفون پر رائٹر کو بتایا کہ " ہم نے اس علاقے میں کوئی حملہ نہيں کیا"۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز