محمد علی جونیئر سے واشنگٹن ہوائی اڈے پر پوچھ تاچھ

Mar 11, 2017 04:15 PM IST | Updated on: Mar 11, 2017 04:15 PM IST

واشنگٹن۔  دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کلے کے بیٹے محمد علی جونیئر کو پرواز پر سوار ہونے سے قبل واشنگٹن ڈی سی ہوائی اڈہ پر ان کی شناخت کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے ایک دیگر ہوائی اڈہ پر اسی طرح کے واقعہ کے بارے میں  قانون سازوں کے سامنے بیان دیا تھا۔ کانگریس کی ڈیموکریٹک رکن ڈیسی واسرمین نے اسی پرواز میں سوار تھیں جس میں علی تھے، کہا میرے خیال میں یہ انتقامی حرکت ہے ان کے مذہب کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ محمد علی جونیئر نے قبل ازیں کہا تھا کہ 7 فروری کو جب وہ جمائیکا سے آئے تھے تو فلوریڈا کے ہوائی اڈہ پر انہیں حراست میں لے کر وفاقی ایجنسیوں نے ان سے ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں سوال پوچھے تھے۔

انہوں نے ایوان کی عدالتی کمیٹی کے سامنے اس واقع کی شکایت کی تھی۔ محترمہ ڈیسی نے کہاکہ یہ کوئی اتفاق نہیں معلوم ہوتا کہ انہیں واشنگٹن سے پرواز میں سوار ہونے میں پریشانی ہوئی۔ دراصل ان واقعات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی مسلح اکثریتی ممالک سے آنے والے دنوں کے امریکی داخلہ پر پابندی لگادی ہے اور سرحدی سیکورٹی بھی سخت کردی ہے۔ علی کے وکیل کرس مینینی نے رائٹر کو بتایا کہ علی نے سرکاری شناخت نامہ (آئی کارڈ) پیش کیا ۔ اس کے باوجود انہیں اس طرح روکا گیا۔ ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔

محمد علی جونیئر سے واشنگٹن ہوائی اڈے پر پوچھ تاچھ

اے ایف پی، گیٹی امیجیز

عام طو ر سے جہا ز پر سوار ہونے کے لئے امریکی شہریوں سے محض شناختی کارڈ مانگا جاتا ہے۔ مگر علی سے کہا گہا کہ وہ کوئی اور شناخت بھی دکھائے۔ جب علی نے اپنا امریکی پاسپورٹ دیا تب انہیں جہاز پر سوار ہونے کی اجازت دی گئی۔ علی کے والد محمد علی سابق ہیوی ویٹ چیمپئن تھے، انہیں عظیم ترین کہا جاتا تھا۔ ان کا جون میں انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی تدفین میں صدر بل کلنٹن اور دنیا بھر کے معززین نے شرکت کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز