یوم آزادی پر ملک بھر کے مسلمانوں میں جوش وخروش ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟

Aug 14, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Aug 14, 2017 08:11 PM IST

ممبئی: ملک کے 70ویں یوم آزادی پر ممبئی سمیت مہاراشٹر میں جشن منانے کی تیاری زوروشور سے جاری ہے اور اس جشن میں اقلیتی فرقہ ،اقلیتی تعلیمی اداروں اور تنظیموں نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔اس موقع پر متعدد معزز شخصیتوں اور شہریوں نے پیغامات دیئے ہیں تاکہ اقلیتی فرقہ بھی اس جشن میں جوش وخروش سے حصہ لے۔

مشہوروکیل ایڈوکیٹ مجید میمن اور راجیہ سبھا ممبرنے اسے ایک قومی تہوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس آزادی کے موقع پر مفلسی ،ناانصافی،امتیازی اور مجبوری کے خلاف جنگ لڑنی ہے کیونکہ ان چیزوں کے ہم غلام بن چکے ہیں اور ضروری ہے کہ ان تمام برائیوں سے آزادی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ یوم آزادی کو ہمیں روایتی جوش وخروش سے منانے کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں۔لاکھوں شہیدوں کی یاد کی جانی چاہئے ،جنہوں نے اپنا تن من دھن ملک کی آزادی کے لیے لٹا دیا اور جان کی قربانی تک دے دی۔اس کا سلسلہ ’بھارت چھوڑدوتحریک ‘سے شروع ہوا ،جوکہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں 75سال پہلے لڑئی گئی۔

یوم آزادی پر ملک بھر کے مسلمانوں میں جوش وخروش ، پڑھئے کس نے کیا کہا ؟

مجید میمن نے کہاکہ ہمیں غریبی ،غربت ،تشدد،امتیازی سلوک اورعدم مساوات کے لیے لڑنا ہے ،ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم روزگار، ملازمت اور مکان فراہم کرائیں اور اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کے لیے مذہب کے نام پر لڑانے والوں سے بھی سختی سے نمٹنا چاہئے ۔یہ کیسی آزادی ہے مفلسی ،ناانصافی اور مجبوری ہے کہ غلام بن چکے ہیں۔ان تمام برائیوں سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جانا چاہئے۔

انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ ایک عرصہ سے انجمن اسلام میں بڑے پیمانے پر جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور تقریباًسواداروں کے اساتذہ ،طلباء اور غیر تدریسی عملہ بھی شریک ہوتا ہے۔ انہوں نے یوم آزادی پر خصوصی پیغام میں کہاکہ ہم ہمیشہ ملک کی آزادی کے جشن میں شریک ہوتے رہے ہیں،کیونکہ اقلیتی فرقے کے رہنماوں نے بھی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھانسی پر بھی چڑھ گئے ،آج آزادی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،لیکن ہمیں قومی جشن میں شریک ہوکر حب الوطنی کا امتحان لینے والوں کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

سابق ریاستی وزیراور مہاراشٹر کانگریس کے نائب صدر عارف نسیم خان نے کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ ہم سبھی اتحاد واتفاق کے ساتھ مل جل کر اس قومی جشن کو منائیں اور ان لوگوں کا منہ بند کردیں جوکہ ہماری حب الوطنی پر سوالیہ نشان بناتے ہیں۔دراصل آزاد ی ایک نعمت ہے اور اسے حاصل کرنے میں کافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔سابق پولیس افسراور عوامی وکاس پارٹی کے صدرشمشیر خان پٹھان کا کہنا ہے کہ ہر حال میں آزادیکا جشن منایا جانا چاہئے کیونکہ کافی جدوجہد کے بعد اسے حاصل کیا گیا ہے ،مگر ہمیں بے کس ،مجبوراور عدم مساوات کا شکار شہریوں کوبطی ظلم سے آزادی دلانا چاہئے۔

معروف صحافی جاویدجمال الدین نے اس کا موقع پر مجاہدآزادی اوشا مہتا کے حوالے کہا کہ آزاد ی آزادی ہوتی ہے اور جویہ کہتے ہیں ،موجودہ حالات سے بہتر یہ ہوتا ہے کہ ہم غلام رہتے توانہیں آزادی کا مطلب نہیں پتہ ہے ،اس کا مطلب ہوتا ہے بے فکر ی کیونکہ ہمیں یہ آزادی بڑی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے ،اس لیے ضروری ہے ملک کی قومی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے لیے ہم یوم آزادی کو مل جل کر جوش وخروش سے منائیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سینٹ کے ممبر اورایم آر سی سی کے جنرل سکریٹری آصف فاروقی نے آزادی کو کسی نعمت سے کم نہیں قراردیا اور کہاکہ آج جو حالت ہے،وہ افسوس ناک ہے اوریہی سبب ہے کہ ہمیں جشن آزادی کی تقریب میں ہرحال میں شریک ہوناچاہئے۔ہم نے بھی ملک کی جدوجہد آزادی میں حصہ لیا ہے اور دوسروں سے پیچھے بھی نہیں رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز