رابطہ عالم اسلام کا انسداد دہشت گردی پہل، مسلمانوں سے اپنے ملکی قوانین اور ضابطے کی پابندی کی اپیل کا اعادہ

May 20, 2017 09:04 PM IST | Updated on: May 20, 2017 09:04 PM IST

ریاض : رابطہ عالم اسلام کے سربراہ نے انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران شروع کی جانیوالی ایک نئی انسداد دہشت گردی پہل کا خاکہ پیش کیا۔ ریاض سمٹ 2017 میں آج میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے رابطہ کے سکریٹری جنرل محمد العیسیٰ نے کہا کہ داعشی بن جانے والے ڈیڑھ ہزار[1500] جنگجو داعش کی طرف سے جنگ آزما ہیں۔یہ اطلاع عرب نیوز نے دی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ داعش میں 101 ملکوں کے 45 ہزار جنگجو شامل ہوئے۔ یورپی ملکوں سے 1500 داعشی سامنے آئے۔ ان سب کو مذہبی تعلیمات کی آڑ میں ورغلایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیمیں اسلامی تعلیمات اور مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

رابطہ عالم اسلام کا انسداد دہشت گردی پہل، مسلمانوں سے اپنے ملکی قوانین اور ضابطے کی پابندی کی اپیل کا اعادہ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل محمد العیسیٰ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈیجیٹل مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی جنگی بنیادوں پر اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دنیا بھر میں اس کے ادارے اور افراد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے کام کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں العیسٰی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام میں سعودی عرب کی خدمات غیرمعمولی ہیں۔ مملکت نے نہ صرف اندرون بلکہ بیرون ملک بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں تین ایسے مراکز کےقیام میں مدد کی ہے۔ العیسیٰ نے اس موقع پر غیر مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں سے اپنی اس اپیل کا اعادہ کیا کہ وہ جن ملکوں میں رہتے ہیں وہاں قوانین اور ضابطوں کی پابندی کریں اورقانونی چینلز کے ذریعے اپنے مذہبی حقوق کی پیروی کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز