روہنگیا مسلمانوں کے خلاف عصمت دری اور قتل کے الزامات کی میانمار فوج نے کی تردید ، کیا یہ دعوی ؟

Nov 14, 2017 10:11 AM IST | Updated on: Nov 14, 2017 10:12 AM IST

ینگون : میانمار کی فوج نے ایک رپورٹ جاری کر کےکہا کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف عصمت دری اور قتل کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مہم کے الزام میں حال ہی میں رخائن صوبہ کے میجر جنرل کو ہٹایا گیا ہے۔ فوج کی طرف سے چلائی گئی مہم کے بعد چھ لاکھ سے زیادہ روہنگیا اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش آئے ہیں۔

میانمار مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل من آنگ هلانگ کے فیس بک پر بھی فوج کی رپورٹ کو جاری کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں فوج کے اوپر عائدظلم وستم کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔وزارت دفاع میں نفسیاتی جنگ اور تعلقات عامہ کے شعبہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر میجر جنرل اے لون نے صحافیوں سے کہا کہ صوبہ رخائن کے میجر جنرل مانگ مانگ سوئے کو ہٹانے کے پیچھے وجوہات کاپتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل سوئے کو کسی دوسرے علاقے کی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف عصمت دری اور قتل کے الزامات کی میانمار فوج نے کی تردید ، کیا یہ دعوی ؟

روہنگیا مہاجرین، فائل فوٹو : رائٹر

امریکہ کی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان کیٹینا ایڈمز نے کہا کہ امریکہ رخائن صوبے کے میجر جنرل کو ہٹانے کی رپورٹ سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا کے خلاف کی گئی تشددکی کارروائی اور انسانی حقوق کے غلط استعمال کی مسلسل رپورٹوں سے وہ شدید فکر مند ہیں۔ اس کے لئے ذمہ دار لوگوں کے خلاف جوابدہی طے ہونی چاہئے۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی نے اتوار کو بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ میانمار کے فوجیوں نے روہنگیا مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا اور خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز