میانمار فوج کی وحشیانہ کارروائی میں روہنگیا آبادی والی بستیاں نیست و نابود

Sep 07, 2017 01:47 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 01:47 PM IST

کٹاپلونگ (بنگلہ دیش)۔ میانمار میں اپنا سب کچھ لٹا کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے 20 روہنگیا مسلمانوں اور ہندووں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں سب سے پہلے فوجی جوانوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، اس کے بعد سپاہیوں کے ساتھ شہریوں نے بستی میں آگ زنی کی اور لوٹ پاٹ کرکے سب کچھ تباہ کردیا۔ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے 20 مسلمانوں اور ہندوؤں نے انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے میانمار میں فوجی جوانوں اور بدھسٹ شہریوں کے ہاتھوں اپنے گاؤں کی تباہی کی کہانی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح میانمار کے صوبہ راخین میں کھا ماؤنگ سیک گاؤں کو فوج نے گزشتہ 25 اگست کو اندھا دھند فائرنگ کی، جس کی وجہ سے وہ اپنے گاؤں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

عادل حسین (55) نے بتایا کہ فوج نے اپنے ساتھ راخین بدھسٹ شہریوں کو بھی لایا، جنہوں نے پورے گاؤں کو جلا دیا۔ گاؤں کے تمام دس ہزار مسلم باشندے مجبور ہوکر گاؤں سے فرار ہوگئے، جن میں سے بہت سارے لوگوں کو گولی ماردی گئی اور باقی لوگ کسی طرح جان بچا کر یہاں پہنچے۔ گاؤں میں اب ایک بھی شخص زندہ باقی نہيں ہے۔ یہ پناہ گزیں فی الحال کٹاپلونگ کے عارضی پناہ گزیں کیمپ میں رہ رہے ہيں، جہاں پہلے سے ہزاروں روہنگیا پناہ لئے ہوئے ہیں۔

میانمار فوج کی وحشیانہ کارروائی میں روہنگیا آبادی والی بستیاں نیست و نابود

روہنگیا مہاجرین، فائل فوٹو : رائٹر

گزشتہ 25 اگست سے میانمار میں تشدد کا شکار ہونے والے تقریبا ڈيڑھ لاکھ روہنگيا بنگلہ دیش آچکے ہيں۔ میانمار کے جنوبی صوبہ راخین میں فوج کے تشدد میں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں، جہاں اراکین روہنگیا سلویشن آرمی کے جنگجو ؤں سے فوج کی جھڑپيں چل رہی ہيں۔ رائٹر کے نمائندوں نے صوبہ راخین میں کھاماؤنگ سیک گاؤں اور اطراف کے درجنوں باشندوں سے بات کی، جو یہاں پناہ لئے ہوئے ہيں۔ان میں متعدد ہندو بھی ہيں، جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز