میانمار میں معروف مسلم وکیل کے قتل پر سوچی نے پہلی مرتبہ توڑ ی خاموشی ، بتایا جمہوریت کے فروغ کیلئے بڑا نقصان

Feb 26, 2017 08:14 PM IST | Updated on: Feb 26, 2017 08:14 PM IST

ینگون : میانمار کی لیڈر آنگ سانگ سوچی نے مسلمان وکیل کونی کے دن دہاڑے قتل پر پہلی مرتبہ اپنی خاموشی توڑی ہے ۔ سوچی نے قتل کو ملک میں جمہوریت کے فروغ کی کوششوں کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دے دیا ہے۔ خیال رہے کہ کونی کو 29 جنوری کو ینگون ایئر پورٹ کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہاں موجود ایک ٹیکسی ڈرائیور نے انہیں بچانے کی کوشش کی تھی ، لیکن حملہ آور نے اسے بھی ہلاک کر دیا ۔ اس کارروائی کے دوران حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ایک سابق فوجی نے اس حملہ آور کی خدمات حاصل کی تھیں، جو اب مفرور ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی حکمران پارٹی کی رہنما آنگ سان سوچی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسلمان وکیل کونی کی ہلاکت ملک میں جمہوریت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ینگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوچی نے کہا کہ کونی کی ہلاکت ان کی سیاسی پارٹی نیشنل فرنٹ کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔ کونی نہ صرف حکمران جماعت نیشنل فرنٹ کے اعلیٰ رکن تھے ، بلکہ وہ سوچی کے ایک اہم مشیر بھی تصور کیے جاتے تھے۔

میانمار میں معروف مسلم وکیل کے قتل پر سوچی نے پہلی مرتبہ توڑ ی خاموشی ، بتایا جمہوریت کے فروغ کیلئے بڑا نقصان

فائل فوٹو

اتوار کے دن ینگون میں کونی کی یاد میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں سوچی بھی شریک ہوئیں۔ اس موقع پر سوچی نے کونی کی ہلاکت پر اپنے پہلے عوامی بیان میں مزید کہا کہ یہ ایک سیاسی قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ نیشنل لیگ کی پالیسیوں کے خلاف ایک دہشت گردانہ حملہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آئینی ماہر کونی ملکی فوج کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے۔ وہ میانمار میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں حالیہ عرصے کے دوران کٹر نظریات کے حامل بودھ عوام کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ ایسے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں کہ میانمار کی سیکورٹی فورسز بھی اس اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز