عالمی دباو کے سامنے جھک کر روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کیلئے میانمار ہوا تیار ، مگر رکھی یہ شرط

Sep 28, 2017 07:08 PM IST | Updated on: Sep 28, 2017 07:08 PM IST

ینگون : روہنگیا مسلمان میانمار سے نقل مکانی کرکے پڑوسی ممالک میں پناہ گزیں ہیں ۔ سب سے زیادہ بنگلہ دیش میں کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ہندوستان میں بھی ہزاروں روہنگیا مسلمان موجود ہیں ، جن کو پناہ دینے سے متعلق ہندوستان میں بھی کافی سیاست ہورہی ہے اور مودی حکومت ان کو پناہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں بھی کیس زیر سماعت ہے۔

تاہم اب عالمی برادری کے دباو میں آکر میانمار کا کہنا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک میں پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کیلئے تیار ہے اور وہ جلد ہی راکھین سے نقل مکانی کرکے دیگر ممالک میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بلائے گا۔ تاہم اس کیلئے ان افراد کی تصدیق کی کارروائی کی جائے گی ۔ میانمار کے ایک وزیر نے جمعرات کو یہ بات کہی۔ میانمار کے سماجی بہبود ، راحت و بازآبادکاری کے وزیر یو ون میات اے کے مطابق اس قدم سے پہلے اسٹیٹ کونسلر کے وزیر اس سلسلہ میں بات چیت کیلئے افسران کے ساتھ بنگلہ دیش جائیں گے۔

عالمی دباو کے سامنے جھک کر روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کیلئے میانمار ہوا تیار ، مگر رکھی یہ شرط

نیوز ایجنسی زنہوا کی ایک رپورٹ کے مطابق میانمار اور بنگلہ دیش کے ذریعہ 1993 کے ایک اتفاق رائے کے مطابق تصدیق کرنے کی یہ کارروائی تونگ پیو لاتوے اور نگوا گاوں میں کی جائے گی، جو لوگ سڑک راستے سے لوٹنا چاہتے ہیں وہ تونگ پیو لاتوے اور جو سمندری راستے سے لوٹنا چاہتے ہیں وہ نگوا گاوں میں اپنی تصدیق کی کارروائی مکمل کرائیں گے ۔

منصوبہ کے مطابق تصدیق شدہ پناہ گزینوں کو دارگیازار میں بسایا جائے گا ۔ تاہم ریاست کے کچھ مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فی الحال اس کارروائی میں شامل ہونے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز