میانمار روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر بنگلہ دیش سے بات چیت کے لیے تیار

Jan 13, 2017 09:30 AM IST | Updated on: Jan 13, 2017 09:30 AM IST

ینگون / ڈھاکہ۔  میانمار اپنے یہاں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش آئے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ کے حل کے لئے بنگلہ دیش سے بات چیت شروع کرے گا۔ میانمار کے ایک سینئر افسر نے آج یہ اطلاع دی۔ایک اندازے کے مطابق تقریبا 65ً ہزار مسلمان تین ماہ پہلے راكھن ریاست پر ہوئے حملے کے بعد میانمار سے بھاگ کر سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں آ گئے تھے۔ میانمار کی لیڈر آنگ سان سو کی نے بے وطن روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے لئے اپنے ایک خصوصی ایلچی کو اس ہفتے بنگلہ دیش بھیجا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے میانمار کے نائب وزیر خارجہ كياو ٹن سے کہا ہے کہ میانمار کو بنگلہ دیش میں رہ رہے تمام روہنگیا مسلمانوں کو قبول کرنا ہوگا۔ادھر میانمارکی وزارت خارجہ کی ترجمان آئی آئی سو نے کہا کہ دونوں ملک جلد ہی 'شناخت اور تصدیق کے عمل' پر بات چیت شروع کریں گے۔ میانمار کی ترجمان نے کہا، ’’اگر یہ پناہ گزین میانمار کے پائے جاتے ہیں تو مناسب وقت پر انہیں اپنے ملک لایا جائے گا۔‘‘ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بات چیت کے لئے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

میانمار روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر بنگلہ دیش سے بات چیت کے لیے تیار

روہنگیا مہاجرین: فائل فوٹو

وہیں دوسری طرف بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں نے چونکانے والے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کی پولیس اور فوج ان کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جنسی حملہ اور وحشیانہ قتل کرتے ہیں۔ پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے من مانے طریقے سے دیہاتیوں کو گرفتار کیا اور ان کے گھروں میں آگ لگا دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز