ہریانہ میں 250 دلت خاندانوں نے اسلام قبول کرلیا– News18 Urdu

ہریانہ میں 250 دلت خاندانوں نے اسلام قبول کرلیا

ریانہ میں 250 خاندانوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔ حصار کے بھگانا سانحہ کے یہ متاثرین ہفتہ کو کلمہ پڑھ کر اسلام کی آغوش میں آگئے

Aug 08, 2015 05:22 PM IST | Updated on: Aug 08, 2015 06:23 PM IST

ہریانہ :  ہریانہ میں 250 خاندانوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔  حصار کے بھگانا سانحہ کے یہ متاثرین ہفتہ کو کلمہ پڑھ کر اسلام کی آغوش میں آگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام قبول کرنے والی فیملی دلتوں کی ہے اور یہ لوگ اعلی ذات کے ہندووں کے ظلم کا شکار ہوئے تھے ۔

قابل ذکر ہے کہ 21 مئی 2012 کو بھگانا میں اعلی ذات کے ہندووں سے دلتوں کا تنازعہ ہو گیا تھا ، اس کے بعد 52 سے زیادہ دلت خاندانوں کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑگیا تھا ۔  بتایا جاتا ہے کہ تنازعہ کی شروعات زمین پر قبضہ ہٹانے کو لے کر ہوئی تھی، جس کے بعد لوگوں نے دلتوں کا حقہ پانی بند کردیا ، جس کے سبب انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔  اس واقعہ کے دو سال بعد 23 مارچ 2014 کو بھگانا میں 4 نابالغ لڑکیوں کے اغوا اور اجتماعی آبروریزی کا واقعہ پیش آیا ، جس کے بعد بھی انتظامیہ کی آنکھیں نہیں کھلیں ،  25 اگست 2014 کو فائرنگ کا بھی واقعہ پیش آیا مگر اس مرتبہ بھی انتظامیہ دبنگوں پر نکیل کسنے میں ناکام رہی ۔

ہریانہ میں 250 دلت خاندانوں نے اسلام قبول کرلیا

اعلی ذات کے لوگوں کے ان مظالم کے خلاف گزشتہ تین سالوں سے دلت فیملیاں انصاف کا مطالبہ کرتی ہوئی در در بھٹک رہی تھیں ۔ یہی نہیں متاثرین دہلی کے جنتر منتر پر بھی تقریبا ایک سال سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کررہے تھے ، مگر انہیں انصاف نہیں ملا ۔ بتایا جاتا ہے جمعہ کو ہی ان فیملیوں نے مذہب اسلام قبول کرنے کا اشارہ دے دیا تھا ۔

ان متاثرین کا کہنا ہے کہ بھگانا عصمت دری معاملوں میں بچے ہوئے ملزمین کو جلد گرفتار کیا جائے اور زمین پر سے غیر قانونی قبضہ ہٹا یا جائے ۔  اسی معاملے میں وہ جمعہ کو ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال كھٹر سے بھی ملے تھے ، مگر وہاں سے بھی انہیں مایوس اور خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا ۔  متاثرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی منوہر لال كھٹر سے انصاف کے لئے وہ چار بار ملاقات کر چکے ہیں ، مگر اب تک اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔

Loading...

Loading...