کانگریس اور بی جے پی د ونوں ناقابلِ قبول: آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ– News18 Urdu

کانگریس اور بی جے پی د ونوں ناقابلِ قبول: آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ

گوہاٹی۔ آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے کانگریس پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھانا تو ہمیشہ اس کی روایت رہی ہے، وزیر اعلی آسام ترون گگوئی کے اس مبینہ الزام کو مسترد کر دیا کہ اے آئی یو ڈی ایف اور بی جے پی میں خفیہ ساز باز ہے اور دونوں پارٹیاں مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر رہی ہیں۔

Jan 27, 2016 03:04 PM IST | Updated on: Jan 27, 2016 03:05 PM IST

گوہاٹی۔ آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے کانگریس پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھانا تو ہمیشہ اس کی روایت رہی ہے، وزیر اعلی آسام ترون گگوئی کے اس مبینہ الزام کو مسترد کر دیا کہ اے آئی یو ڈی ایف اور بی جے پی میں خفیہ ساز باز ہے اور دونوں پارٹیاں مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر رہی ہیں۔ یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں مولانا قاسمی نے وزیر اعلیٰ کو  چیلنج کیا ہے کہ سات دن کے اندر وہ یا تو ثابت کریں کہ اے آئی یو ڈی ایف کا بی جے پی سے ساز باز ہے یا پھر اپنے بیان کو واپس لیں ورنہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے گا ۔

مولانا نے اس استدلال کے ساتھ کہ اے آئی یو ڈی ایف کا قیام ہر مذہب اور طبقہ کے لوگوں اور خاص طور پر کمزور اور مظلوم لوگوں کے حقوق کی لڑائی کے لئے ہوا ہے الزام لگا یا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ان کی پارٹی کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس نے آسام میں اپنے پچپن (گزشتہ چالیس سالہ اور موجودہ پندرہ سالہ) سالہ دور اقتدار میں لوگوں کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آسام آج بھی پسماندہ ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں بے روزگاری،ناخواندگی،غریبی جیسے سینکڑوں مسائل ہیں جنہیں حل کرنے میں کانگریس کی موجودہ ریاستی سرکار پوری طرح ناکام رہی ہے۔

کانگریس اور بی جے پی د ونوں ناقابلِ قبول: آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ

مولانا نے یہ الزام بھی لگایا کہ کانگریس نے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو صرف ووٹ بینک کے لئے استعمال کیا ہے۔ اقلیتوں کی اکثریت والے علاقوں میں سڑکوں کی حالت خستہ ہے، پینے کے پانی کی قلت ہے،اسکول اور کالج کی کمی ہے اور ہاسپیٹل نہیں کے برابر ہیں۔ بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے لوک سبھا الیکشن میں ملک اور آسام کی ترقی کے بڑے بڑے وعدے کرکے یہاں کی سات سیٹوں پربی جے پی نے جیت تو حاصل کر لی مگر مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

مولانا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تمام ریلیوں میں کہا تھا کہ وہ مہنگائی، بیروزگاری اور غریبی کا خاتمہ کرکے اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں گے اور" سب کا ساتھ سب کا وکاس" کے فارمولہ پر عمل کریں گے لیکن مرکزی سرکار ان سب محاذوں میں ناکام ہے اور ان حالات میں آسام میں ہر مذہب اور ہر طبقہ کے لوگ اے آئی یو ڈی ایف کو امید کی کرن سمجھ رہے ہیں اور اس سے جڑ رہے ہیں ۔

Loading...

Loading...