یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کیس چلانے کی اجازت میں تاخیر پر ہائی کورٹ سخت برہم ، چیف سکریٹری کو کیا طلب– News18 Urdu

یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کیس چلانے کی اجازت میں تاخیر پر ہائی کورٹ سخت برہم ، چیف سکریٹری کو کیا طلب

گورکھپور ضلع میں سال 2007 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملہ میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔

May 04, 2017 08:15 PM IST | Updated on: May 04, 2017 08:15 PM IST

الہ آباد : گورکھپور ضلع میں سال 2007 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملہ میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس فساد میں وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کو اہم ملزم بنایا گیا ہے۔ اب اس مقدمے کو آگے چلانے کے لئے ریاستی حکومت کی اجازت ضروری ہے۔

ریاستی حکومت سے فسادات کے ملزموںکے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ملنے والی اجازت میں ہو رہی تاخیر پر الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی ۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے چیف سکریٹری کو 11 مئی کو ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا ہے۔ کورٹ نے چیف سکریٹری سے ذاتی حلف نامہ داخل کرنے کیلئے بھی کہا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کیس چلانے کی اجازت میں تاخیر پر ہائی کورٹ سخت برہم ، چیف سکریٹری کو کیا طلب

درخواست گزار انسانی حقوق کے کارکن پرویز پرواز اور اسد حیات کی جانب سے داخل عرضی میں فساد کی جانچ سی بی آئی یا پھر کسی دوسری آزاد ایجنسی سے کرائے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ سی بی سی آئی ڈی نے کی ہے ، لیکن وزیر اعلی یوگی سمیت تمام ملزموں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لہذا اس کیس کے تحت درج مقدموں میں ٹرائل شروع کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی اجازت ضروری ہے۔

وہیں فسادات کے اہم ملزم ہی وزیر اعلی اور وزیر داخلہ ہونے پر مقدمہ چلانے کی اجازت کون دے گا، کورٹ میں اس پر بھی بحث چل رہی ہے۔ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس یوسی شریواستو کی ڈویژن بنچ نے چیف سکریٹری کو طلب کیا ہے، جس کے بعد معاملہ کی اگلی سماعت اب 11 مئی کو الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔