اروناچل کانگریس کو زبردست دھچکا ، وزیر اعلی سمیت 43 ممبران اسمبلی پی پی اے میں شامل– News18 Urdu

اروناچل کانگریس کو زبردست دھچکا ، وزیر اعلی سمیت 43 ممبران اسمبلی پی پی اے میں شامل

اروناچل پردیش میں کانگریس کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا ، جب اس کے صرف ایک رکن اسمبلی کو چھوڑ کر وزیر اعلی پیما كھانڈو سمیت اس کے تمام اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش پی پی اے میں شامل ہو گئے

Sep 16, 2016 03:09 PM IST | Updated on: Sep 16, 2016 03:09 PM IST

ایٹانگر : اروناچل پردیش میں کانگریس کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا ، جب اس کے صرف ایک رکن اسمبلی کو چھوڑ کر وزیر اعلی پیما كھانڈو سمیت اس کے تمام اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش پی پی اے میں شامل ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ كھانڈو کانگریس کے 43 ممبران اسمبلی کے ساتھ پی پی اے میں شامل ہو گئے اور حکومت کو حقیقت میں پی پی اے حکومت میں تبدیل کر دیا۔

خیال رہے کہ دو ماہ قبل کانگریس حکومت کی بحالی کے بعد كھانڈو ریاست کے وزیر اعلی بنے تھے۔ کانگریس کے ساتھ اب صرف ایک رکن اسمبلی نبام تكي رہ گئے ہیں۔ کانگریس نے پارٹی میں بغاوت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے تحت جولائی میں تكي کی جگہ كھانڈو کو وزیر اعلی بنادیا تھا۔

اروناچل کانگریس کو زبردست دھچکا ، وزیر اعلی سمیت 43 ممبران اسمبلی پی پی اے میں شامل

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی پی اے بی جے پی کے ساتھ جاتی ہے یا نہیں۔ ریاست میں بی جے پی کے پاس 11 ممبران اسمبلی ہیں۔ ریاست کی 60 رکنی اسمبلی میں کانگریس کے 47 ممبران اسمبلی تھے، بی جے پی کے 11 اور دو آزاد امیدوار رکن اسمبلی ہیں۔ کانگریس کے دو ممبران اسمبلی کی صورت حال کے بارے میں ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے ، جنہوں نے حالیہ سیاسی واقعات سے پہلے استعفی دے دیا تھا۔ ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے جنوری 2016 میں پہلے نبام تكي حکومت گر گئی، ریاست میں صدر راج لگا اور کچھ وقت کے لئے کالكھو پل کی حکومت تشکیل پائی ۔

ادھر داخلی امور کے وزیر مملکت اور اروناچل مغربی پارلیمانی سیٹ سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ کرن رجيجو نے اس بڑے سیاسی الٹ پھیڑ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بے وجہ بی جے پی پر الزام لگاتی ہے۔ اب اروناچل میں کانگریس کی حکومت ہی نہیں رہی ، کیونکہ تمام ممبران اسمبلی ایک علاقائی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔

Loading...

رجيجو نے مزید کہا کہ اگر رکن اسمبلی کانگریس کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے ہیں ، تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کو بحال بھی کیا ، لیکن آخر میں اراکین اسمبلی کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔

Loading...