آسام شہریت معاملہ : 31 جولائی تک ہر حال میں این آرسی لسٹ شائع کردی جائے : سپریم کورٹ  

جمعیۃعلما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے اب گواہی اور تصدیق کے عمل میں لوگوں کو قدرآسانی میسر ہوجائے گی ۔

May 21, 2019 09:57 PM IST | Updated on: May 21, 2019 09:57 PM IST
آسام شہریت معاملہ : 31 جولائی تک ہر حال میں این آرسی لسٹ شائع کردی جائے : سپریم کورٹ  

فائل فوٹو

آسام شہریت معاملہ میں جمعیۃعلماء ہند نے متاثرین کو ہونے والی دشواریوں کو محسوس کرتے سپریم کورٹ میں دوعرضیاں داخل کی تھیں ۔ ان عرضیوں میں عدالت کو بتایا گیا تھاکہ جس طرح دوردراز کے مراکزپر تصدیق اور گواہی کیلئے لوگوں کو طلب کیاجارہا ہے اس سے نہ صرف انہیں دشواریوں کاسامنا ہے بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تصدیق وگواہی کے عمل کو پورا کرنے میں خودکو بے بس بھی محسوس کررہے ہیں اس لئے اس عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے اور گواہی وتصدیق کے لئے لوگوں کو ان کے اپنے آبائی علاقوں کے مراکز پر ہی طلب کیا جانا زیادہ مناسب اور بہترہوگا ۔

جمعیۃعلماء ہند اور مختلف تنظیموں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ان لوگوں کے متعلق نظرثانی کی اپیل داخل بھی کی تھی جن لوگوں کو فارن ٹریبونل نے غیر ملکی قراردیا تھا ۔  واضح رہے کہ فارن ٹربیونل کے ذریعہ فارنرقراردیئے جانے کے بعد یہ لوگ گوہاٹی ہائی کوٹ گئے تھے لیکن گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جس کو فارن ٹربیونل نے فارنرقراردیدیا ہے اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کوبرقراررکھتے ہوئے ایک سہولت بھی دی ہے کہ اگر کسی فارنرکانام این آرسی میں آگیا ہے تو اس پر فارن ٹربیونل کو دوبارہ غورکرنا چاہئے۔

Loading...

اس عرضی پر چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس اے آرنریمن کی دورکنی بینچ نے سماعت کی تھی اور عدالت نے سماعت کے دوران اسٹیٹ کوآڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلاسے پوچھا تھاکہ کیوں نہ کم سے کم تکلیف دیتے ہوئے لوگوں کی گواہی اور تصدیق کا عمل ان کے اپنے ضلع اور تحصیل میں مکمل کرایاجائے اس پر مسٹر پرتیک ہزیلانے جواب دیاکہ جن کے خلاف خاندانی شجرہ کولیکر اعتراضات ہیں اس کے لئے ہماری کوشش ہے کہ گواہی اور تصدیق کا بندوبست مقامی تحصیل یا اسی سرکل میں کیاجائے اس پر فاضل عدالت نے اپنا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں یہ ہدایت کی کہ درخواستوں میں جو گزارشات کی گئیں ہیں ان کو نظرمیں رکھتے ہوئے لوگوں کو حتی الامکان سہولت فراہم کی جائے اور کم سے کم فاصلہ پر طلب کرکے تمام کارروائیاں مکمل کی جائیں ۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے کہا کہ این آرسی کی آخری تاریخ 31 جولائی 2019 ہی ہوگی۔

جمعیۃعلما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے اب گواہی اور تصدیق کے عمل میں لوگوں کو قدرآسانی میسر ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امید افزابات یہ ہے کہ عدالت نے آج ان لوگوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی باضابطہ ہدایت جاری کردی ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اعتراض کا شکارہوئے یہ تقریبا دو لاکھ ساٹھ ہزار لوگ گواہی اور تصدیق کے اس نئے عمل سے بھی سرخروہوکرباہر نکلیں گے ۔

Loading...