دیوا شریف : ہندوستان کی واحد درگاہ جہاں کھیلی جاتی ہے ہولی ، دیکھنے کو ملتا ہے ایک الگ ہی نظارہ– News18 Urdu

دیوا شریف : ہندوستان کی واحد درگاہ جہاں کھیلی جاتی ہے ہولی ، دیکھنے کو ملتا ہے ایک الگ ہی نظارہ

مگر آج ہم جس نایاب ہولی کی بات کررہے ہیں ، وہ بارہ بنکی کے مشہور صوفی حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر کھیلی جانےو الی ہولی ہے ۔

Mar 03, 2018 09:15 AM IST | Updated on: Mar 03, 2018 09:18 AM IST

بارہ بنکی : درگاہ دیو شریف پر ہولی کا تہوار اپنے نرالے انداز میں منایا جاتا ہے ۔ متھرا ، ورندا ون اور برسانے کی ہولی کو دیکھنے کیلئے تو غیر ملکوں سے بھی سیاح آتے ہیں ۔ برسانے کی لٹھ مار ہولی تو ملک بھر میں مشہور ہے ، مگر آج ہم جس نایاب ہولی کی بات کررہے ہیں ، وہ بارہ بنکی کے مشہور صوفی حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر کھیلی جانےو الی ہولی ہے ۔ یہاں پھولوں اور گلال سے کھیلی جانے والی ہولی کا نظارہ ہی کچھ الگ ہوتا ہے۔

ایک طرف جہاں سیاسی لیڈران ملک میں نفرت پھیلا کر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں اور پورے ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو وہیں دوسری طرف سماج میں کچھ ایسی طاقتیں بھی ہیں جو ان کے برے منصوبوں پر پانی پھیر رہی ہیں۔ بارہ بنکی میں ہندو مسلم اتحاد کی مثال صوفی حاجی وارث علی کی درگاہ پر کھیلی جانے والی ہولی میں ذات اور مذہب کی سبھی سرحدیں ٹوٹ جاتی ہیں ۔ یہاں ہندو مسلم ایک ساتھ مل کر ہولی کھیلتے ہیں  اور ایک دوسرے سے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔

دیوا شریف : ہندوستان کی واحد درگاہ جہاں کھیلی جاتی ہے ہولی ، دیکھنے کو ملتا ہے ایک الگ ہی نظارہ

حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر کھیلی جانے والی ہولی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ جو ان کا پیغام تھا کہ جو رب ہے وہی رام ہے ، کی پوری جھلک اس میں نظر آتی ہے ۔ ملک بھر سے ہندو ، مسلمان اور سیکھ یہاں آکر ایک ساتھ ہولی کھیلتے ہیں اور اتحاد کا پیغام دیتے ہیں ۔ اس ہولی میں ہندو ، ہند و نہیں ، مسلمان ، مسلمان نہیں اور سکھ ، سکھ نہیں بلکہ سبھی انسان ہوکر ہولی کھیلتے ہیں۔

رنگ ، گلال اور پھولوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ذریعہ کھیلی جانے ولی ہولی کا نظارہ ہی کچھ الگ ہوتا ہے ۔ سینکڑوں سالوں سے چلی آرہی یہاں ہولی کھیلنے کی روایت آج کے سماج کیلئے ایک مثال پیش کرتی ہے ۔ حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ کی تعمیر ان کے ایک ہندو دوست راجہ پنچم سنگھ نے کرائی تھی اور اس کی تعمیر کے زمانہ سے ہی یہ مقام ہندو اور مسلم اتحاد کا پیغام دیتا آرہا ہے۔

Loading...

Loading...