اترپردیش : سہارنپور میں کشیدگی مگر امن ، بھیم آرمی کے ضلع صدر کے بھائی سچن والیہ کی آخری رسوم ادا– News18 Urdu

اترپردیش : سہارنپور میں کشیدگی مگر امن ، بھیم آرمی کے ضلع صدر کے بھائی سچن والیہ کی آخری رسوم ادا

اترپردیش کے سہارنپور میں کل بھیم آرمی کے ضلع صدر کے بھائی کی مشتبہ حالت میں گولی لگنے سے ہوئی موت کے بعد حالات کشیدہ مگر پر امن ہیں

May 10, 2018 07:58 PM IST | Updated on: May 10, 2018 07:58 PM IST

سہارنپور: اترپردیش کے سہارنپور میں کل بھیم آرمی کے ضلع صدر کے بھائی کی مشتبہ حالت میں گولی لگنے سے ہوئی موت کے بعد حالات کشیدہ مگر پر امن ہیں اور متوفی سچن والیہ کی آج سخت سیکورٹی کے درمیان آخری رسم ادا کردی گئی ۔ سی ایم او ڈاکٹر بی ایس سوڑھي نے بتایا کہ بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیہ کے چھوٹے بھائی 21 سالہ سچن والیہ کی لاش کا آج صبح تین بجے پانچ ڈاکٹروں کے ایک پینل نے پوسٹ مارٹم کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ سچن کی موت کے منہ میں گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ سچن کے لواحقین اس کی لاش کو صبح 10 بجے ایمبولینس کے ذریعہ پوسٹ مارٹم ہاؤس سے اپنے گھر رام نگر لے گئے۔ جہاں دوپہر 12 بجے گاؤں کے شمشان گھاٹ پر پولیس کی سخت چوکسی کے درمیان آخری رسم ادا کردی گئی۔ پولیس انتظامیہ نے احتياط کے طور پر رام نگر میں آج آخری رسم میں شرکت کے لئے کسی کو بھی جانے نہیں دیا، کانگریس کے نائب صدر عمران مسعود، کانگریس ممبر اسمبلی مسعود اختر اور میڈیا اہلکاروں کو پولیس نے رام نگر میں داخل نہیں ہونے دیا۔

اترپردیش : سہارنپور میں کشیدگی مگر امن ، بھیم آرمی کے ضلع صدر کے بھائی سچن والیہ کی آخری رسوم ادا

سچن والیہ کی آج سخت سیکورٹی کے درمیان آخری رسم ادا کردی گئی ۔

وہیں دوسری طرف بھیم آرمی نے ضلع پولیس انتظامیہ کو اپنے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے 48 گھنٹے الٹی میٹم دیا ہے۔ بھیم آرمی نے ضلع مجسٹریٹ کو جو مطالبہ نامہ یا ہے اس میں 50 لاکھ روپے کا معاوضہ، نامزد چاروں ملزمان کی گرفتاری، خاندان کے ایک رکن کو سرکاری نوکری اور مہارانا پرتاپ کی سالگرہ تقریب منانے کی اجازت فراہم کرنے والے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے مطالبے شامل ہیں۔

جن کے خلاف مقتول کی ماں نے نامزد رپورٹ درج کرائی ہے، وہ ابھی روپوش ہیں۔ آج سارا دن تھانہ صدر بازار اور کوتوالی دیہات کے علاقوں میں بھاری پولیس، پی اے سی، اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی رہی ہے کل ضلع میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی آج بھی بحال نہیں کی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ پرمود کمار پانڈے اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار نے متوفی کے اہل خانہ اور بھیم آرمی کے رہنماؤں کو آج بتایا کہ جو بھی مانگیں ان کی طرف سے دی گئیں ہیں وہ حکومت کو بھیجی جارہی ہیں۔ واقعہ کے 24 گھنٹے بعد بھی پولیس انتظامیہ یہ صاف نہیں کر پائی کہ سچن والیہ کی موت حادثہ تھی یا قتل۔ دونوں اہلکار نے کہا کہ تحقیقات کے بعد اس معاملے میں صورت حال صاف کی جائے گی۔

Loading...

ادھر، ضلع مجسٹریٹ نے سہارنپور ضلع میں مہارانا پرتاپ جینتی تقریب منعقد کرنے پر روک لگا دی ہے۔ پورے ضلع میں سہارنپور شہر اور پولیس انتظامیہ اور انٹیلیجنس ایجنسیاں صورت حال کی قریبی نگرانی کررہی ہیں ۔سہارنپور ہائی الرٹ پر ہے۔ آج کسی طبقے کی طرف سے کوئی ناخوشگوار ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Loading...