بی جے پی حکومت ذات پات پر مبنی تفریق کو فروغ دے رہی ہے : مایاوتی– News18 Urdu

بی جے پی حکومت ذات پات پر مبنی تفریق کو فروغ دے رہی ہے : مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے آج الزام لگایا کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت سیاسی بدخواہی کے جذبہ کے ساتھ کام کرکے ذات پات پر مبنی تفریق کو فروغ دے رہی ہے

May 07, 2017 08:23 PM IST | Updated on: May 07, 2017 08:23 PM IST

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے آج الزام لگایا کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت سیاسی بدخواہی کے جذبہ کے ساتھ کام کرکے ذات پات پر مبنی تفریق کو فروغ دے رہی ہے۔ محترمہ مایاوتی نے یہاں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اتراکھنڈ کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کرنے کے بعد کہا کہ اتراکھنڈ میں اترپردیش کی طرح یہ عمل بھی ہر سطح پر جاری رہنی چاہئے۔ موجودہ وقت میں پارٹی کو کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ایسے وقت میں خاص کر پارٹی کے بنیادی اصولوں اور ڈٹ کر کھڑے رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ اترپردیش کی طرح ہی اتراکھنڈ میں بھی خاص کر غریبوں، دلتوں، پسماندہ طبقوں اور برہمن سماج ذات پات پر مبنی تفریق، سیاسی بدخواہی اور ظلم و زیادتی کے شکار بنائے جا رہے ہیں اور یہ سب کھلے طور پر سرکاری پشت پناہی میں ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلی کے ضلع گورکھپور میں بی ایس پی ایم ایل اے کے ونے تیواری کے گھر پر پولیس کا چھاپہ سیاسی بدخواہی کی تازہ مثال ہے۔

بی جے پی حکومت ذات پات پر مبنی تفریق کو فروغ دے رہی ہے : مایاوتی

بی ایس پی سربراہ نے کہاکہ ’گورکشا‘ کے نام پر اب بھگوا بریگیڈ کے شرپسند و جرائم پیشہ افراد غریب ہندوؤں کو بھی اپنے ظلم و ستم کا شکار بنا رہے ہیں اور حکومت ان کے تئیں نرم رویہ اپنا کر ان عناصر کو بچانے کا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ’ہندو یووا واہنی‘ کے نام پر بھی ریاست میں کافی لاقانونیت پھیلائی جا رہی ہے اور حکومت یہ سب کچھ تسلیم کرتے ہوئے بھی ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہیں کر پا رہی ہے، یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ سہارنپور ضلع میں دلت استحصال کے واقعات کے سلسلے میں ریاستی بی جے پی حکومت کا رویہ بھی انصاف پر مبنی نہیں ہے۔

Loading...

Loading...