ضمنی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہونے کے ساتھ امیدواروں کی دھڑکنیں تیز، شہڈول سے بی جے پی آگے– News18 Urdu

ضمنی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہونے کے ساتھ امیدواروں کی دھڑکنیں تیز، شہڈول سے بی جے پی آگے

وہیں، مدھیہ پردیش کے شہڈول لوک سبھا اور نیپانگر اسمبلی ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) امیدواروں نے اہم سبقت حاصل کر لی ہے۔

Nov 22, 2016 11:18 AM IST | Updated on: Nov 22, 2016 11:18 AM IST

بھوپال۔ مدھیہ پردیش کے شهڈول لوک سبھا اور نیپانگر اسمبلی حلقوں میں آج صبح آٹھ بجے سے سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ڈاک ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ووٹوں کی گنتی کا کام شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی اب امیدواروں کی دھڑکنیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ دونوں علاقوں میں ضمنی انتخابات کے لئے 19 نومبر کو پولنگ ہوئی تھی۔

وہیں،  مدھیہ پردیش کے شہڈول لوک سبھا اور نیپانگر اسمبلی ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) امیدواروں نے اہم سبقت حاصل کر لی ہے۔ درج فہرست ذات و قبائل کے لئے محفوظ شہڈول پارلیمانی علاقے میں پانچ راؤنڈ کی گنتی کے بعد بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی حکومت کے وزیر گیان سنگھ اپنے قریب ترین حریف کانگریس کی ہمادری سنگھ سے تقریبا 18 ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔اس کے علاوہ درج فہرست ذات و قبائل کے لئے محفوظ نیپانگر اسمبلی ضمنی انتخابات میں محترمہ منجو دادو کانگریس کے انتر سنگھ سے نو راؤنڈ کی گنتی کے بعد تقریبا بارہ ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔

ضمنی انتخابات کی ووٹنگ شروع ہونے کے ساتھ امیدواروں کی دھڑکنیں تیز، شہڈول سے بی جے پی آگے

ان علاقوں میں آج صبح آٹھ بجے سے سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ڈاک ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ساتھ ووٹوں کی گنتی کا کام شروع ہو گیا تھا۔ دونوں علاقوں میں ضمنی انتخابات کے لئے 19 نومبر کو پولنگ ہوئی تھی۔ شہڈول میں ہفتہ کو ہوئی ووٹنگ میں 66 فیصد ووٹروں نے اور نیپانگر میں71.25 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ دونوں ہی ضمنی انتخابات میں اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے امیدواروں کے درمیان ہے۔ شہڈول لوک سبھا ضمنی الیکشن بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دلپت سنگھ پرستے کے انتقال اور نیپانگر اسمبلی ضمنی الیکشن بی جے پی ممبر اسمبلی راجندر دادو کے انتقال کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

Loading...

Loading...