اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے بعد اب منی پور ہو سکتا ہے سیاسی رسہ کشی کا شکار– News18 Urdu

اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے بعد اب منی پور ہو سکتا ہے سیاسی رسہ کشی کا شکار

نئی دہلی۔ اروناچل پردیش کے بعد اتراکھنڈ میں بھی کانگریس کا اقتدار جانے کے بعد پارٹی ہائی کمان منی پور کو لے کر محتاط ہے۔

Mar 29, 2016 02:49 PM IST | Updated on: Mar 29, 2016 02:50 PM IST

نئی دہلی۔ اروناچل پردیش کے بعد اتراکھنڈ میں بھی کانگریس کا اقتدار جانے کے بعد پارٹی ہائی کمان منی پور کو لے کر محتاط ہے۔ یہاں وزیر اعلی اوكرام ابوبی سنگھ کے خلاف پارٹی کے 25 ممبران اسمبلی نے مورچہ کھول دیا ہے۔ ان ممبران اسمبلی نے ابوبی سنگھ کی کابینہ میں ردوبدل کی مانگ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ناراض کانگریس ممبران اسمبلی نے بی جے پی میں شامل ہونے کے اشارے دئیے ہیں۔

اس کے بعد کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ابوبی سنگھ کو دہلی طلب کیا۔ اتوار کو کانگریس لیڈر کپل سبل نے اتراکھنڈ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کے اشارے دئیے تھے کہ بی جے پی منی پور میں بھی ایسا کر سکتی ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈر وی نارائن سامی نے دعوی کیا ہے کہ ہم منی پور میں صورت حال پر نظر رکھے ہیں اور سارے اختلافات حل کر لئے جائیں گے۔ سامی نے ناراض ایم ایل اے سے سمجھوتہ کرنے کے اشارے بھی دیے ہیں۔ منی پور میں 2017 میں انتخابات ہونے ہیں۔

اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے بعد اب منی پور ہو سکتا ہے سیاسی رسہ کشی کا شکار

Loading...

منی پور میں 2012 میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ کل 60 میں سے 42 نشستیں جیت کر کانگریس سب سے بڑی پارٹی بنی تھی۔ اس کے بعد 3 اپریل 2014 کو منی پور اسٹیٹ کانگریس پارٹی کے 5 ممبر اسمبلی بھی کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ اس سے کانگریس کی تعداد 47 ہو گئی۔ منی پور ہائی کورٹ نے دل بدل قانون کے تحت 3 ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔

Loading...