ہندوستان - پاکستان میں آج ہوگی بات، ان اختلافات کوحل کرنےکی ہوگی کوشش– News18 Urdu

ہندوستان - پاکستان میں آج ہوگی بات، ان اختلافات کوحل کرنےکی ہوگی کوشش

کاریڈورکےلئےدونوں ممالک کےافسران کی 14 جولائی کودوسرے دورکی بات چیت ہوگی۔ اس میں مسافروں کی سہولت، تعداد اورزیروپوائنٹ کیسےکنکٹ کیا جائےکولےکربات چیت ہوگی۔

Jul 14, 2019 10:01 AM IST | Updated on: Jul 14, 2019 10:10 AM IST

ہندوستان - پاکستان کے درمیان بن رہےکرتارپورکاریڈورکولےکرآج دونوں ممالک کے درمیان واگھہ میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ دوسرے مرحلے کی اس بات چیت میں مسافروں کی سہولت، تعداد اورزیروپوائنٹ کنیکٹیوٹی اہم موضوع رہیں گے۔ میٹنگ میں دونوں ملک کی سرحد کےدونوں طرف اوراس کاریڈورکے لئے جاری کام کی تفصیل بھی سونپی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی میٹنگ میں غوروخوض ہوگا کہ کون کون سے عقیدتمند کرتارپورمیں گرودوارہ دربارصاحب جاسکیں گے۔ کون کون سے دستاویزضروری ہوں گے اورکیا یہ ویزا سے آزاد ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی طرف سے اس کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

کرتارپورکاریڈورپرجوپیسنجرٹرمنل بن رہا ہے۔ وہاں 500 گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولت رہے گی۔ اس جدید ٹرمنل میں ایئرپورٹ کی طرح تمام جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔ مانا جا رہا ہےکہ تیوہارکےدن بھیڑزیادہ رہےگی۔ تیوہارمیں مسافروں کی تعداد 5000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے میں ان کےلئےخاص لاونج بنایا جارہا ہے۔ ہندوستانی حکومت کی طرف سےکاریڈورکوبنانے کےلئے30 انجینئراور200 سے زیادہ مزدورلگائے گئے ہیں۔ پری فیبریکیٹیڈ اسٹیل اسٹرکچرسے پیسنجرٹرمنل تیارکیا جارہا ہے۔  این ایچ اے آئی روڈ تیارکرنے میں مصروف ہے۔ ہندوستان کی طرف سے 60 فیصد سے زیادہ کام پورا ہوچکا ہے۔

ہندوستان - پاکستان میں آج ہوگی بات، ان اختلافات کوحل کرنےکی ہوگی کوشش

ہندوستان - پاکستان کےدرمیان بن رہےکرتارپورکاریڈورکولےکرآج دونوں ممالک کے درمیان واگھہ میں دو طرفہ بات چیت ہوگی۔

کرتارپورکاریڈورکی سڑک ہوگی 4 لین

کاریڈورکی سڑک 4 لین کی ہوگی، جس میں سروس لین بھی ہوگی۔ سڑک کے ساتھ ہی پیسنجر ٹرمنل پرسی سی ٹی وی کیمرے لگائے جارہے ہیں۔ دونوں جگہ پنجابی تہذیب وثقافت کی جھلک دکھانےکےلئےملک وبیرون ملک سے ماہرین کی مدد لی جارہی ہے۔ ہندوستان کے دوردرازعلاقوں سےٹرمنل تک لوگوں کوآسانی سے پہنچانے کےلئےخاص بسیں چلائی جائیں گی۔ یہ کاریڈور4.7 کلو میٹرطویل ہے۔

پاکستان کی طرف سے پل کا کام ابھی نہیں ہوا مکمل 

کاریڈورکے درمیان 320 میٹرکا فلڈ ایریا ہے، جس پرہندوستان کی طرف سے پل بنایا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق ہندوستان کو70 میٹرکا پل بنانا ہے، جبکہ پاکستان کو 250 میٹرکا پل بنانا ہے۔ ہندوستانی حکومت نے اپنی طرف سے پل بنانےکا کام شروع کردیا ہے۔ وہیں پاکستان کی طرف سے پل کےبجائےمٹی سے راستہ  بنانے کی بات کی جارہی ہے۔ آج کی میٹنگ میں اس مسئلے پربھی بات ہوسکتی ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ کرتارپورکاریڈور کی تعمیر جلد مکمل ہوجائے گی۔ امید کی جارہی ہے کہ کرتارپورکاریڈور کی تعمیر جلد مکمل ہوجائے گی۔

حرکتوں سے بازنہیں آرہا ہے پاکستان

پاکستان نے ہندوستان کی طرف سے بنائے گئے دباومیں میٹنگ سے پہلے10 رکنی پاکستان سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی  (پی ایس جی پی سی) سے ایک خالصتان حامی کوہٹا دیا، لیکن پاکستان اس معاملے میں بھی حرکتوں سے بازنہیں آیا۔ اب پاکستان نے پی ایس جی پی سی میں دوسرے خالصتان حامی کوشامل کرلیا ہے۔ واضح رہےکہ کرتارپورکاریڈورکی سرگرمیوں میں پی ایس جی پی سی کوآرڈینیٹرکا رول نبھانےوالی ہے۔ لہٰذا، ہندوستان نےاس میں خالصتان حامی عناصرکوشامل کرنے پراعتراض ظاہرکیا تھا۔

خالصتانی لیڈربشین سنگھ کا بھائی ہےامیرسنگھ

پاکستان نےہفتہ کوپی ایس جی پی سی سے ہٹائےگئے خالصتان حامی گوپال سنگھ چاولہ کی جگہ کمیٹی میں دوسرے خالصتان حامی امیرسنگھ کوشامل کرلیا۔ امیرسنگھ خالصتانی لیڈر بشین سنگھ کا بھائی ہے۔ امیرسنگھ خود بھی پاکستان میں خالصتانی تحریک کا لیڈرہے۔ ہندوستان اورپاکستان گرونانک دیو کی 550 ویں جینتی کےلئےاس کاریڈورکوعقیدتمندوں کےلئےکھولنے پرکام کررہے ہیں، لیکن ابھی بھی دونوں ممالک کےدرمیان انفرااسٹرکچراورسفرکےشرائط پراختلاف قائم ہے۔

Loading...