گجرات کے ساحل سے وایو طوفان 175 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ٹکرائے گا

بحیرہ عرب میں اٹھے گردابی طوفان نے اور خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اور اس سے پہلے کی پیشن گوئی کے مقابلے میں اور زیادہ شدت سے گجرات کے سوراشٹر کے نزدیک کل صبح زمین سے ٹکرانے (لینڈ فول)کا امکان ہے

Jun 12, 2019 01:30 PM IST | Updated on: Jun 12, 2019 01:33 PM IST
گجرات کے ساحل سے وایو طوفان 175 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ٹکرائے گا

این ڈی آر ایف کی تیس سے زیادہ ٹکڑیاں ان علاقوں میں تعینات ہیں۔

بحیرہ عرب میں اٹھے گردابی طوفان نے اور خطرناک  شکل اختیار کر لی ہے اور اس سے پہلے کی پیشن گوئی کے مقابلے میں اور زیادہ شدت سے گجرات کے سوراشٹر کے نزدیک کل صبح زمین سے ٹکرانے (لینڈ فول)کا امکان ہے۔ احمدآباد محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جینت سرکار نے آج یواین آئی کو بتایا کہ اب اس نے اور زیادہ خطرناک گردابی طوفان کی شکل لے لی ہے۔ صبح یہ گجرات کے ویراول ساحل سے تقریباً 340کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔ یہ کل صبح پوربندر سے مہوا کے درمیان ویراول کے آس پاس زمین سے ٹکرائے گا۔ اس وقت اس کی رفتار پہلے کے اندازے کے مطابق 110سے 120کلومیٹر فی گھنٹہ کے مقابلے میں اور زیادہ 145سے 155کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے اور اس کے ساتھ کبھی کبھی ہوا کی رفتار 175کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائےگی۔

اس دوران اس کے پیش نظر ساحلی اضلاع پر احتیاط کے وسیع اقدامات کئے گئے ہیں۔11 ساحلی اضلاع کے اسکولوں میں آج اور کل چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی وجے روپانی نے صرف اسی معاملہ پر آج کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے۔ سبھی انچارج وزرا کو ان کے اضلاع میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی سرکاری افسروں کی چھٹیاں رد کردی گئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ماہی گیروں کی کشتیاں واپس لوٹائی گئی ہیں جبکہ گھوگھا اور دہیج کے درمیان کھنبھات کے خلیج میں چلنے والی رو رو فیری کو کل سے تین دن کےلئے بند کردیا گیا ہے۔

تقریباً408ساحلی گاؤں کی سمت نچلے علاقوں سے لوگوں کو منتقل کرنے کا کام آج صبح شروع ہوگیا ہے ۔ کل تقریباً تین لاکھ لوگوں کو منتقل کیا جائےگا۔ راحت اور بچاؤ کے کام کے لئے تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ این ڈی آر ایف کی تیس سے زیادہ ٹکڑیاں ان علاقوں میں تعینات ہیں۔ طوفان کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں بھاری بارش کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ سمندری ساحلوں پر لوگوں کو نہ جانے کی صلاح دی گئی ہے۔ ادھر ساحلی علاقوں سمیت ریاست کے کئی مقامات پر آج بادل چھائے رہیں گے اور کئی مقامات پر بوندا باندی بھی ہوئی ہے۔ سمندر ی ساحل پر اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے دو بار ایسے طوفانوں کی وارننگ آخر میں غلط ثابت ہوئی تھی۔سال 2014 کے اکتوبر میں نیلوفر طوفان اور 2017کے دسمبر میں اوکھی طوفان گجرات ساحل سے ٹکراتے وقت محض کم دباؤ کے معمولی علاقے میں تبدیل ہوگئے تھے۔ ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے ان سے نمٹنے کےلئے وسیع تیاریاں کی گئی تھیں اور تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا تھا۔

Loading...

Loading...