death figure reached 75 in spurious liquor tragedy in uttar pradesh زہریلی شراب سانحہ : ہر لمحہ تھمتی سانسیں ، اترپردیش میں مرنے والوں کی تعداد 75 تک پہنچی – News18 Urdu

زہریلی شراب سانحہ : ہر لمحہ تھمتی سانسیں ، اترپردیش میں مرنے والوں کی تعداد 75 تک پہنچی

اترپردیش میں زہریلی شراب پینے سے ہوئے بڑے حادثوں میںمرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 75 تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاملہ میں 175 سے زیادہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہےجبکہ 297 افراد کے خلاف معاملات درج کئے گئے ہیں ۔

Feb 10, 2019 08:04 PM IST | Updated on: Feb 10, 2019 08:04 PM IST

اترپردیش میں زہریلی شراب پینے سے ہوئے بڑے حادثوں میںمرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 75 تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاملہ میں 175 سے زیادہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہےجبکہ 297 افراد کے خلاف معاملات درج کئے گئے ہیں ۔ اترپردیش کے سہارنپور میں 64 اور کشی نگر میں 11 اموات کی خبر ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد یوگی حکومت نے اس سانحہ میں مجسٹریٹ جانچ کے احکامات دئے ہیں اور پولیس اور آبکاری محکمہ کے کئی افسران کو معطل کردیا ہے۔ غیر قانونی شراب کے خلاف اترپردیش حکومت تابڑتوڑ کارروائی کررہی ہے۔

زہریلی شراب سانحہ : ہر لمحہ تھمتی سانسیں ، اترپردیش میں مرنے والوں کی تعداد 75 تک پہنچی

زہریلی شراب سانحہ : ہر لمحہ تھمتی سانسیں ، اترپردیش میں مرنے والوں کی تعداد 75 تک پہنچی

سہارنپور ضلع کے ناگل ، گاگلہیڑی اور دیوبند تھانہ حلقہ کے کئی گاوں میں جہاں دیر رات زہریلی شراب پینے سے اب تک 47 افراد کی جانیں تلف ہوچکی ہیں ، وہیں 22 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثہ کے بعد ہفتہ کو سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار اور ایس ایس پی دنیش کمار نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 36 لوگوں کی جانیں سہارنپور کے الگ الگ گاووں میں تلف ہوئی ہیںجبکہ گیارہ لوگوں نے میرٹھ میں علاج کے دوران دم توڑ دیا ۔ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے غیر قانونی شراب کے کاروبار سے وابستہ 175 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ باقی لوگوں کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم دبش دے رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ زہریلی شراب کی فروخت کو روکنے کی ذمہ دار آبکاری محکمہ کی ہوتی ہے ، لیکن دیکھا گیا ہے کہ ریاست میں غیر قانونی شراب مافیا کا حوصلہ ہمیشہ ہی بلند رہتا ہے ۔ اکھلیش حکومت میں اناو اور لکھنو میں زہریلی شراب پینے سے 33 لوگوں کی موت ہوگئی تھی ۔ اس وقت بھی کارروائی کی بات کہی گئی تھی ۔