delhi hajj committee press conference on hajj arrangements– News18 Urdu

دلی اسٹیٹ حج کمیٹی کا حاجیوں کی پریشانی کے لئے اقلیتی امور اور شہری ہوابازی کی وزارت پر الزام

فیروز احمد نے کہا کہ’’ چونکہ مقامی سطح پر حاجیوں کے جملہ معاملات ریاستی حج کمیٹی کے توسط سے انجام دئے جاتے ہیں ایسے میں ریاستی حج کمیٹی (دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی) کو کلی اختیارات کی فراہمی لازمی ہے

Oct 13, 2018 06:01 PM IST | Updated on: Oct 13, 2018 06:34 PM IST

دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی نے امسال دہلی امبارکیشن پوائنٹ سے حج پر جانے والے حاجیوں کو ہونے والی پریشانیوں کیلئے وزارت اقلیتی امور اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس طرح کی پریشانیوں کے تدارک کی خاطر متعلقہ وزارتوں ، ایجنسیوں، حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹی کے آپسی مفاہمت سے ایک شفاف نظام قائم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

حج انتظامات سے متعلق آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے رکن فیروز احمد نے واضح لفظو ں میں وزارت اقلیتی امور اور وزارت شہری ہوابازی پر عدم تعاون کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا’’ہم نے امسال حاجیوں کو ہونے والی پریشانیوں کے بارے میں آگاہ کرنے اور آئندہ اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لئے تجاویز پیش کرنے کے لئے اقلیتی امور اور شہری ہوابازی کے وزراء سے کئی مرتبہ وقت مانگا لیکن انہوں نے پانچ منٹ کا وقت بھی نہیں دیا۔‘‘

دلی اسٹیٹ حج کمیٹی کا حاجیوں کی پریشانی کے لئے اقلیتی امور اور شہری ہوابازی کی وزارت پر الزام

حج انتظامات سے متعلق آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے رکن فیروز احمد نے واضح لفظو ں میں وزارت اقلیتی امور اور وزارت شہری ہوابازی پر عدم تعاون کا الزام لگایا: تصویر، یو این آئی۔

 فیروز احمد نے کہا کہ’’ چونکہ مقامی سطح پر حاجیوں کے جملہ معاملات ریاستی حج کمیٹی کے توسط سے انجام دئے جاتے ہیں ایسے میں ریاستی حج کمیٹی (دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی) کو کلی اختیارات کی فراہمی لازمی ہے۔ بصورت دیگرمقامی سطح پر مختلف قسم کی سماجی اور سیاسی صورت حال پیدا ہونا ایک فطری بات ہے جس کے لئے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ بھی ایسی بہت سی شکایتیں موصول ہوئیں اور ایسی باتیں ہوئی جو دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے براہ راست دائرہ اختیار سے باہر تھیں لیکن ان کے لئے بھی ہمیں مورد الزام ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لئے ملک کے دیگر امبارکیشن پوائنٹ کی صوبائی حج کمیٹیوں کی طرح ہی دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کو بھی کلی اختیارات تفویض کئے جانے چاہئیں۔ فیروز احمد نے سوال کیا ’حاجیوں کو انٹرنیشنل پسنجر کی جو سہولت ملنی چاہئے وہ کیوں نہیں مل رہی ہے۔ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ ہم اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں۔‘

Loading...

خیال رہے کہ اس سال دہلی امبارکیشن پوائنٹ سے حج پر جانے اور واپس آنے والے حاجیوں نے کافی پریشانیوں کی شکایت کی تھیں۔ ایک طرف جہاں انہیں عارضی خیموں میں بارش کے دوران کافی پریشانی اٹھانی پڑی تھی تو دوسری طرف واپسی پر ایرپورٹ سے باہر نکلنے میں کئی گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ حج کمیٹی سے وابستہ ایک اعلی افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ جب تک ایرپورٹ پر حاجیوں کی آمدورفت کا معاملہ ایرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے ہاتھوں میں تھا اس وقت تک انہیں زیادہ پریشانی نہیں ہوتی تھی لیکن چونکہ اب اس کا انتظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے ہاتھوں میں ہے اس لئے وہ صرف زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ دہلی امبارکیشن پوائنٹ ہندوستان کا سب سے بڑا حج امبارکیشن پوائنٹ ہے۔ یہاں سے دہلی کے علاوہ دیگر چھ ریاستوں مغربی اترپردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، چنڈی گڑھ، پنجاب کے عازمین سفر حج کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ امسال ان چھ ریاستوں کے علاوہ جموں و کشمیر کے بھی تقریباً چھ سو عازمین دہلی سے روانہ ہوئے۔

Loading...