جو کام اداروں کو کرنا چاہیے تھا ، جمیل جالبی نے اس کو اپنے ارادوں سے مکمل کیا : پروفیسر ارتضیٰ کریم– News18 Urdu

جو کام اداروں کو کرنا چاہیے تھا ، جمیل جالبی نے اس کو اپنے ارادوں سے مکمل کیا : پروفیسر ارتضیٰ کریم

پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہاکہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے خواجہ احمد فاروقی سے بڑے اچھے مراسم تھے۔ وہ دونوں تحقیقی معاملات میں باہم مشورہ کرتے رہتے تھے۔

Apr 24, 2019 09:04 PM IST | Updated on: Apr 24, 2019 09:04 PM IST

دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے زیر اہتمام اردو کے ممتاز محقق ، ناقد، ادبی مورخ انشاپرداز، مترجم اور ماہر لسانیات کے انتقال پر ، تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں صدر شعبہ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ان کی علمی و ادبی شخصیت کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے خواجہ احمد فاروقی سے بڑے اچھے مراسم تھے۔ وہ دونوں تحقیقی معاملات میں باہم مشورہ کرتے رہتے تھے۔ جب خواجہ احمد فاروقی نے شعبہ کے زیر اہتمام خدنگ غدر اور کربل کتھاکی اشاعت کی ، تو انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی صحت مندفکر و نظر کے مالک تھے۔ ایسی شخصیت مدت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔کدم راؤ پدم راؤ کی تحقیق ہو یا کئی جلدوں پر مشتمل تاریخ ادب اردو، جمیل جالبی کے ذریعے کیے گئے ایسے کام ہیں جن کے حوالے سے یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔ مثل نگیں جو ہم سے ہوا کام، رہ گیا۔ جو کام اداروں کو کرنا چاہیے تھا اسے جمیل جالبی نے اپنے ’’ ارادوں‘‘ کے تحت مکمل کیا۔

جو کام اداروں کو کرنا چاہیے تھا ، جمیل جالبی نے اس کو اپنے ارادوں سے مکمل کیا : پروفیسر ارتضیٰ کریم

پروفیسر ارتضی کریم ۔ فائل فوٹو

ڈاکٹر ابوبکر عباد نے ان کے انتقال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات پر بھرپور اظہارِ خیال کیا۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے ان کی ادبی خدمات پر ملنے والے انعامات کا ذکر کیا۔ اور بتایا کہ انہیں پاکستان کے باوقار ’داؤد ادبی انعام‘ سے چار بار نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 1990 میں ستارۂ امتیاز ، 1976 میں ہلال امتیاز اور 2015 میں کمال فن امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

ڈاکٹر مشتاق عالم قادری نے ان کے انتقال پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کتاب’’ تاریخ اردو ادب‘‘ کی جلدوں کی اہمیت کا ذکر کیا۔ کہ یہ جلدیں محققین کے لیے استناد کا درجہ رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر متھن نے ان کی کتاب’’ قومی کلچر کا مسئلہ‘‘ کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ شعبۂ عربی کے استاد ڈاکٹر حسنین اختر نے ان کی علمی و ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مزید عرض کیا کہ انہیں ادب کے علاوہ مذہبی ،سماجی، سائنسی علوم پر بھی کافی دسترس تھی۔ ڈاکٹر علی جاوید نے ان کی پیدائش کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ وہ علی گڑھ میں پیدا ہوئے آزادی کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوگئے انہوں نے وہاں پر زبردست علمی و ادبی خدمات انجام دیں پاکستانی حکومت نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر شپ کی ذمہ داری دی ، جس کو انہوں نے بحسن خوبی انجام دیا۔ مزید انہیں مقتدرہ قومی زبان پاکستان کا بھی چیئرمین بنایا گیا۔ ا

س تعزیتی پروگرام میں شعبہ کے دیگر اساتذہ میں ڈاکٹر محمد کاظم، ڈاکٹر علی احمد ادریسی، ڈاکٹر سرفراز ، ڈاکٹر دانش حسین خاں، اور ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر محمد ارشد کے علاوہ شعبۂ عربی کے استاد ڈاکٹر مجیب اختر وغیرہ بھی شامل رہے اور شعبہ کے طلبا و طالبات بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سب شرکاے نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔