fir lodged against navjot singh siddhu for katihar violating model code of conduct in bihar ns– News18 Urdu

اب نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، کٹیہارمیں دیئے بیان کولےکرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ درج

کٹیہارمیں دیئے بیان کولےکرسابق کرکٹراورپنجاب کی کانگریس حکومت میں وزیرنوجوت سنگھ سدھوپرضابطہ اخلاق ورزی کا معاملہ درج ہوگیا ہے۔

Apr 16, 2019 11:30 PM IST | Updated on: Apr 16, 2019 11:54 PM IST

لوک سبھا الیکشن کی بڑھتی سرگرمی کےدرمیان متنازعہ بیانات کا دورتھمنےکا نام نہیں لے رہا ہے۔ بہارکے کٹیہارمیں انتخابی تشہیرکے لئے پہنچےسابق کرکٹراورپنجاب کی کانگریس حکومت میں وزیرنوجوت سنگھ سدھونےمسلم طبقے سے متحد ہوکرکانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

وہیں اس معاملے کولےکرسدھوپرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ درج ہوگیا ہے۔ کٹیہارکےبارسوئی تھانہ میں مجسٹریٹ راجیو رنجن کےبیان پرمعاملہ درج کیا گیا ہے۔ دراصل کٹیہارمیں ایک انتخابی تقریب کوخطاب کرتے ہوئے سدھو نےکہا 'آپ (مسلم طبقہ) یہاں اقلیت ہوکربھی اکثریت میں ہیں۔ آپ اگراتحاد دکھائیں گےتوآپ کےامیدوارطارق انور کو کوئی بھی نہیں ہراسکتا ہے'۔

اب نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، کٹیہارمیں دیئے بیان کولےکرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ درج

نوجوت سنگھ سدھو: فائل فوٹو

قابل ذکرہے کہ نوجوت سنگھ سدھو نےاپنی تقریرکے دوران کہا ’آپ کی آبادی یہاں 64 فیصد ہے، یہاں کے مسلمان ہماری پگڑی ہیں۔ اگرآپ کو کوئی پریشانی ہوتومجھے یاد کرنا، میں پنجاب میں بھی آپ کا ساتھ دوں گا‘۔ انہوں نے مخالفین پرتنقید کرتے ہوئےکہا ’یہ لوگ آپ کو تقسیم کررہے ہیں، مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کررہے ہیں۔  پنجاب حکومت میں وزیرسدھونے یہ بھی کہا کہ ’اویسی جیسے لوگوں کولاکرووٹ تقسیم کرنا چاہتے ہیں اورجیتنا چاہتے ہیں۔ اس کےساتھ ہی انہوں نے کہا ’آپ لوگ متحد ہوکر64 فیصد کے ساتھ آئے توسب الٹ جائیں گے اورمودی سلٹ جائیں گے(ہارجائیں گے)۔ اس بارکے الیکشن میں ایسا چھکا مارو کہ مودی باونڈری سے باہرچلا جائے‘۔

Loading...