بٹن دباؤ دیش بناؤ مہم: ووٹروں کی سردمہری، شہری بنام دیہاتی– News18 Urdu

بٹن دباؤ دیش بناؤ مہم: ووٹروں کی سردمہری، شہری بنام دیہاتی

دیہی قصبوں، گاؤوں اور ضلعوں میں حکومت کے ذریعہ فراہم کردہ خدمات پر انحصار نسبتاً زیادہ ہے۔ اس طرح سے وہ اپنی قسمت کو بہتر کرنے اور اپنے من پسند امیدوار کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

May 18, 2019 03:16 PM IST | Updated on: May 18, 2019 03:16 PM IST

گزشتہ 12 مئی کو عام انتخابات 2019 کا چھٹا مرحلہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ سبھی چھ مرحلوں میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں کا فیصد دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کی بہ نسبت اعلی رہا ہے۔

اس رجحان پر غوروفکر اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے نیوز 18 انڈیا کے نائب مدیر منتظم کشور اجوانی نے ذرائع ابلاغ کی ممتاز ہستیوں کا ایک پینل اکٹھا کیا۔

Loading...

سی این این۔ نیوز18 کے ایڈیٹر بھوپندر چوبے اور اس کی سینئر ایڈیٹر پلوی گھوش اور ساتھ میں نیوز18 انڈیا کے سیاسی ایڈیٹر امیتابھ سنہا اور فرسٹ پوسٹ کے ایڈیٹر بی وی راؤ – سب کے سب اس موضوع پر دماغ کھپانے اور اس کا قابل عمل حل پیش کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے۔

ان کے طویل اور شدید بحث و مباحثہ سے شہری اور دیہاتی ووٹر کے درمیان زبردست تضاد کی درج ذیل وجوہات سامنے آئیں۔

ذہنیت

اس مسئلہ کی اصل وجہ دیہاتی اور شہری آبادی کے بیچ ذہنیت کا فرق ہے۔ ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہر، مثال کے طو پر، دولت مند ہیں۔ سبھی بنیادی سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ انھیں آسانی کے ساتھ دستیاب ہیں۔ انھیں بہتر حکمرانی لانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی ہے۔

دیہی قصبوں، گاؤوں اور ضلعوں میں حکومت کے ذریعہ فراہم کردہ خدمات پر انحصار نسبتاً زیادہ ہے۔ اس طرح سے وہ اپنی قسمت کو بہتر کرنے اور اپنے من پسند امیدوار کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

نجی کھلاڑیوں کو مکمل کنٹرول ہوتا ہے

اہم میٹروپولیٹن شہروں میں جیسے کہ ممبئی اور بنگلور، ریلائنس اور ٹاٹا جیسی نجی کمپنیاں، مخصوص شہری سہولیات، جیسے کہ بجلی کی خبرگیری اور ان کی فراہمی کی ذمہ دار ہیں۔ اس سے شہر کے باشندگان کی نگاہ میں حکومت کا کردار گھٹتا ہے۔ یہ سردمہری خود کو انتخاب کے وقت عیاں کرتی ہے جب شہری لوگ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ہیں۔

تعلیم تذبذب پیدا کرتی ہے

شہری بھارت میں تعلیم یافتہ آبادی دیہی بھارت کے مقابلہ کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود شہروں میں نسبتاً کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی ضرورت سے زیادہ معلومات تعلیم یافتہ شہری ووٹروں کے ذہنوں میں تذبذب پیدا کر دیتی ہیں۔ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں پر ان کا یقین ختم ہوجاتا ہے اور وہ ناقص امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

دیہی بھارت، دوسری جانب، اس کو یقین اور بھروسہ ہوتا ہے کہ ان کے ووٹ سے ان کی زندگیاں بدل کر بہتر ہو جائیں گی۔

(اس وسیع فرق کو دکھانے والی ایک چھوٹی سی مثال – کرناٹک میں، دیہاتی قصبہ منڈیا میں 80٪ سے زیادہ پولنگ ریکارڈ ہوئی جبکہ دولتمند اور پررونق جنوبی بنگلور میں اس کے مقابلہ27 فیصد کم لوگوں نے ووٹ ڈالے۔)

 ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیسے کریں سے متعلق پینل کے مشورے

ذرائع ابلاغ کا فعال طور پر استعمال کر کے  ووٹروں کو اپنے ووٹ ڈالنے کی وجوبات کے بارے میں تعلیم دیں۔ انھیں اس پورے عمل میں ایک مقصد نظر آنا چاہئے، جیسے کہ نیا ویژن، نئی امید وغیرہ۔

لوگوں کو اپنے ووٹ ڈالنے میں درپیش مسائل کی شناخت کریں۔ یہ کچھ اس طرح کے مسائل ہو سکتے ہیں جیسے کہ مہاجرت یا پتہ کی تبدیلی، انتخابی فہرست میں نام نہ ہونا، ووٹر آئی ڈی کارڈ کی کمی وغیرہ۔

ان مسائل کو حل کریں۔ امریکہ جیسے ممالک ووٹ نہ ڈالنے والے لوگوں سے رابطہ کر کے ان سےایسا کرنے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔

مہاجر کارکنان، خواتین، عمررسیدہ شہریوں، معذور افراد اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں کو اپنا ووٹ ڈالنے کا اہل بنائیں۔ سبھی اصول اور قوانین میں نرمی لاکر، پولنگ بوتھ پہنچنے کی سہولت فراہم کر کے وغیرہ۔ رائے شماری کے پورے عمل کو دشواریوں سے پاک کریں۔

لازمی ووٹنگ قوانین متعارف کرائیں اور ہر اہل شہری کو ووٹ ڈالنے کے تئیں جوابدہ بنائیں۔

ایپلی کیشنز اور اسمارٹ فونز کے ذریعہ ڈیجیٹل ووٹنگ پلیٹ فارم متعارف کرائیں۔

اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 2030 تک 50٪ بھارتی آبادی شہری علاقوں میں چلی جائے گی۔ شہری ووٹروں کی سردمہری کی عمومی سطح کے ساتھ یہ ایک ڈراونا منظرنامہ ہے اور شہری ووٹروں کو سبھی عام انتخابات میں مزید شرکت کرنے اورشامل ہونے کی ضرورت ہے۔

بٹن دباؤ، دیش بناؤ نیٹ ورک 18 کی ایک پہل ہے جسے آر پی-سنجیو گوینکا گروپ کے ذریعہ پیش کی گئی ہے۔ یہ پہل ہر ہندوستانی کو جاری عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ

#ButtonDabaoDeshBanao

کا استعمال کرکے اس چرچا میں شامل ہوں۔

 

 

 

Loading...