graveyard in home untold story of muslim families in fatehpur sikri snm  ویڈیو: گھروں میں قبرستان یا قبرستان میں گھر! پڑھیں ہوش اڑا دینے والی یہ کہانی۔۔۔۔– News18 Urdu

ویڈیو: گھروں میں قبرستان یا قبرستان میں گھر! پڑھیں ہوش اڑا دینے والی یہ کہانی۔۔۔۔

قبرستان کی سیاست سے انسانیت کس طرح برباد ہوتی ہے۔ ۔ دراصل یوپی کے فتح پور سیکری کے ایک گاؤں میں مردوں (میت) کو گھروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ قبریں قبرستان میں نہیں گھر کے آنگن میں بنائی جارہی ہیں۔ گزشتہ 50 سالوں سے زیادہ سے چلی آرہی مسلم گروپ کی اس پریشانی کو آج تک انتظامیہ حل نہیں کرسکا ہے۔ گھروں میں قبرستان یا قبرستان میں گھر آج بھی جم کر سیاست ہو رہی ہے

Jun 25, 2019 01:31 PM IST | Updated on: Jun 25, 2019 02:53 PM IST

قبرستان اور شمشان پر گزشتہ کچھ سالوں سے ملک میں سیاست ہوتی رہی۔ ہندو۔مسلم سیاست بھی پروان چڑھتی رہی لیکن اس سب کے درمیان انسانیت کس طرح شرمسار ہوئی ہے آج اس کو لیکر ہم آپ کو ایسی رپورٹ دکھائیں گے جس سے آپ کو اندازہ ہوگاکہ  شمشان۔قبرستان کی سیاست سے انسانیت کس طرح برباد ہوتی ہے۔ ۔ دراصل یوپی کے فتح پور سیکری کے ایک گاؤں میں مردوں (میت) کو گھروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ قبریں قبرستان میں نہیں گھر کے آنگن میں بنائی جارہی ہیں۔ گزشتہ 50 سالوں سے زیادہ سے چلی آرہی مسلم گروپ کی اس پریشانی کو آج تک انتظامیہ حل نہیں کرسکا ہے۔ گھروں میں قبرستان یا قبرستان میں گھر آج بھی جم کر سیاست ہو رہی ہے۔۔

بتادیں کہ 70 چھوٹے سال بیٹا جلال الدین اور چھوٹے لال کے چھوٹے  بھائی لال خان کے کنبہ میں دیڑھ درجن سے زیادہ لوگ انہیں چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں۔ چھوٹے لال کے بیٹے جلال الدین کا کنبہ اسی گھر میں رہتا ہے۔ جس کے سامنے بوا کی قبر بنی ہوئی ہے۔ ہرے رنگ کی اس پکی قبر کے پاس دائیں۔بائیں گھر کے تین دوسرے ممبر بھی مٹی کے نیچے دفن ہیں۔ ان قبروں پر سے ہی گھر کے لوگوں کا ہر وقت آناجانا ہوتا رہتا ہے اور قبر کے سامنے بنے چولہے میں روز آگ جلتی ہے، کھانا پکتا ہے۔

لال خان کا کنبہ اس کچی مٹی والے گھر اور آنگن میں دو کھڑے پتھر دو قبروں کے ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہیں لیکن یہاں پر 1۔2 نہیں ایک درجن نہیں 20 سے زیادہ لوگ دفن ہیں۔  اور اتنا ہی نہیں یہیں پر بھینس اور اور بکریاں بھی رہتی ہیں۔ پاس کے ضلع کی سڑکوں پر مزدوری  کرکے پیٹ بھرنے والے اس کنبے کے گھر بھی سرکاری اسکیموں کے تحت بنے ایسے میں قبروں کیلئے الگ سے جگہ کیسے ملے اس لئے گھر کے ممبر کی موت کےبعد گھر کو ہی قبرستان بنادیاگیا ۔

Loading...

qabr

گھروں میں مردوں کو دفنانے کا مسئلہ تب گرمایا جب جلال الدین کے دادا منگل خان کی موت ہوگئی تھی۔ 2 دن تک دفن کرنے کیلئے قبر کی جگہ نہیں ملی۔ پولیس انتطامیہ نے جگہ دلوائی تب جاکر منگک کو دفن کیا جاسکا۔ مسئلہ گرمانے کے بعد انتطامیہ کے ذریعے قبرستان کی تلاش شروع ہوئی۔ انتطامیہ کے ذریعے یہ بات بھی بتائی گئی کہ آس۔پاس بنے ہوئے تمام گھر قبرستان اور پوکھر کی زمین پر بنائے گئے ہیں۔ تالاب کے بیچ نظر آنے والی چھوٹی لکڑی دراصل اسی ڈمارکیشن کا حصی ہے۔ پر گاؤں کے لوگ تالاب اور گاؤں سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ گاؤں کے پردھان سندر سنگھ کہتے ہیں ایک دوسری جگی فینے کی بار انتظامیہ نے کی ہے اور یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔۔

Loading...