پلول : گاوں والوں کا دعوی ، لشکر طیبہ کے فنڈ سے نہیں بلکہ عوامی چندہ سے تعمیر کی گئی مسجد

جانچ ایجنسی این آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ اس مسجد میں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا پیسہ لگا ہوا ہے۔

Oct 15, 2018 05:59 PM IST | Updated on: Oct 15, 2018 06:32 PM IST
پلول : گاوں والوں کا دعوی ، لشکر طیبہ کے فنڈ سے نہیں بلکہ عوامی چندہ سے تعمیر کی گئی مسجد

این آئی اے کا دعوی ، پلول کی مسجد میں دہشت گرد حافظ سعید کی فلاح انسانیت فاونڈیشن کا لگا ہے پیسہ

ہریانہ کے پلول میں واقع ایک مسجد سیکورٹی ایجنسیوں کی جانچ کی زد میں آگئی ہے ۔ جانچ ایجنسی این آئی اے نے دعوی کیا ہے کہ اس مسجد میں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا پیسہ لگا ہوا ہے ۔ پلول کے اتاور گاوں میں خلفائے راشدین نام کی اس مسجد کی جانچ تین اکتوبر کو این آئی اے نے کی تھی ۔ ٹیرر فنڈنگ کے معاملہ میں مسجد کے امام محمد سلمان سمیت تین افراد کوایجنسی پہلے ہی نئی دہلی سے گرفتار کرچکی ہے ۔

ادھر اتاور گاوں کے باشندوں کا کہنا ہے مسجد کی تعمیر میں لشکر طیبہ کا کوئی پیسہ نہیں لگا ہے جبیسا کہ این آئی اے دعوی کررہی ہے ۔ گاوں کے پردھان رمیش پرجاپتی کا کہنا ہے کہ مسجد لیگل زمین پر بنی ہوئی ہے اور اس میں مختلف گاوں کے لوگوں کے چندہ کی رقم لگی ہوئی ہے ۔

ادھر این آئی اے مسجد سے وابستہ افراد سے پوچھ گچھ کررہی ہے اور حساب کتاب کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ عطیات اور دستاویزات کی تفصیلات ضبط کرلی گئی ہیں ۔

خیال رہے کہ این آئی اے نے 26 ستمبر کو سلمان ( 52) ، محمد سلیم اور سجاد عبد الوانی کو مبینہ طور پر حافظ سعید کی این جی او فلاح انسانیت فاونڈیشن سے فنڈ حاصل کرنے کے الزام میں گرفتارکیا تھا ۔

Loading...