کرناٹک کا ناٹک: وائرل ہورہا ہے میرا استعفیٰ فرضی: وزیراعلیٰ کمارا سوامی کی وضاحت

کانگریس رکن اسمبلی ایچ کے پاٹل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی اس موضوع پربحث کرنا ٹھیک ہوگا۔ اس پراسپیکرنے کہا کہ مجھے ایک ایسے پوائنٹ پرمت لے جائیے، جہاں مجھےآپ بغیر پوچھے فیصلہ لینا ہوگا۔ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

Jul 22, 2019 10:25 PM IST | Updated on: Jul 22, 2019 10:30 PM IST
کرناٹک کا ناٹک: وائرل ہورہا ہے میرا استعفیٰ فرضی: وزیراعلیٰ کمارا سوامی کی وضاحت

کرناٹک کے وزیراعلیٰ کمارا سوامی نےکہا ہے کہ وائرل ہورہی میرے استعفیٰ کی خبر فرضی ہے۔

کرناٹک میں ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت والی جنتا دل سیکولر- کانگریس اتحاد حکومت کی آج اصل آزمائش ہے۔ کمارا سوامی حکومت آج فلورٹسٹ دے گی۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ اسمبلی اسپیکرکے آررمیش کمارنے اتحادی حکومت کواکثریت کرنے کے لئے شام 6 بجے تک کا وقت دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سارے عمل طے وقت میں پوری ہوگی۔ اس دوران کرناٹک کے وزیراعلیٰ کمارا سوامی نے کہا ہے کہ میرے استعفیٰ کی فرضی خبریں وائرل کی جارہی ہیں۔ پتہ نہیں کون وزیراعلیٰ بننا چاہتا ہے۔

اس دوران کانگریس رکن اسمبلی ایچ کے پاٹل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی اس موضوع پربحث کرنا ٹھیک ہوگا۔ اس پراسپیکرنے کہا کہ مجھے ایک ایسے پوائنٹ پرمت لے جائیے، جہاں مجھے آپ بغیرپوچھے فیصلہ لینا ہوگا۔ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

Loading...

اسمبلی اسپیکرنے یہ بھی بتایا کہ 16 باغی اراکین اسمبلی اگرایوان نہیں پہنچتے ہیں، توانہیں غیرحاضرمانا جائے گا۔ حالانکہ کافی رسہ کشی کے بعد بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ اسمبلی اسپیکرکے آررمیش کمارکا کہنا ہے کہ فلورٹسٹ پورا ہونے کے بعد ہی ایوان کی کارروائی تحلیل کی جائے گی۔

اس سے قبل کرناٹک میں بحران کے 'مرد آہن' کہے جانے والے وزیرڈی کے شیوکمارنے اتحادی حکومت بچانے کے لئے آخری داوں چل دیا ہے۔ باغی اراکین اسمبلی کو راضی کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کمارا سوامی کے مقام پرکسی دیگرکو وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔ ڈی کے شیوکمار کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس حکومت بچانے کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کےلئے تیار ہے۔ اتنا ہی نہیں ایچ ڈی کمارا سوامی کی پارٹی کانگریس کی طرف سے کسی کو وزیراعلیٰ بنانےکےلئے تیارہے۔ ڈی کے شیوکمار کے مطابق انہوں نے (جے ڈی ایس) اس کے بارے میں ہمارے ہائی کمان کو بھی بتا دیا ہے۔

Loading...