ہندو نے مسجد کے لئے زمین وقف کی ، مہنت نے رکھا سنگ بنیاد– News18 Urdu

ہندو نے مسجد کے لئے زمین وقف کی ، مہنت نے رکھا سنگ بنیاد

فرید آباد : فریدہ آباد نہر پار میں واقع ددسیا گاؤں میں اس وقت قومی اتحاد ویکجہتی کی ایک نایاب مثال قائم دیکھنے کو ملی ، جب گاؤں کے ایک ہندوشخص نے 100 گز زمین مسجد کےلئے وقف کردی ۔ اس کے بعد مسجد کی تعمیر کےلئے مولانا کے ساتھ ایک مہنت نے بھی سنگ بنیاد رکھی اور اس طرح قرآن کی آیات اورپجاری کے شنکھ ناد کے ساتھ مسجد کاسنگ بنیاد رکھاگیا۔

Jan 07, 2016 02:33 PM IST | Updated on: Jan 07, 2016 02:33 PM IST

فرید آباد : فریدہ آباد نہر پار میں واقع ددسیا گاؤں میں اس وقت قومی اتحاد ویکجہتی کی ایک نایاب مثال قائم دیکھنے کو ملی ، جب گاؤں کے ایک ہندوشخص نے 100 گز زمین مسجد کے لئے وقف کردی ۔ اس کے بعد مسجد کی تعمیر کےلئے مولانا کے ساتھ ایک مہنت نے بھی سنگ بنیاد رکھی اور اس طرح قرآن کی آیات اورپجاری کے شنکھ ناد کے ساتھ مسجد کاسنگ بنیاد رکھاگیا۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اب مسجد کی تعمیر کاکام جلد ہی شروع کیا جائے گا ۔ یہ مسجد پوری دنیا کےلئے ہندومسلم محبت اور آپسی تعلقات کی گواہ بنےگی۔

ہندو نے مسجد کے لئے زمین وقف کی ، مہنت نے رکھا سنگ بنیاد

خیال رہے کہ مسلمان گاؤں میں واقع مسجد کا احاطہ وسیع کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے ان کو مسجد سے متصلزمین میں سے 100 گز درکار تھی، جو گاؤں کے دیپک تیاگی کی تھی۔گاؤں کے مسلمان ان کے پاس اس درخواست کے ساتھ گئے کہ دیپک اپنی زمین کا ایک ٹکڑا ان کو مسجد کے لیے فروخت کردے۔لیکن جب یہ بات ان کے سامنے مسلمانوں نے رکھی ، تو انہوں نے مسجد کے لیے اپنی 100 گز جگہ مفت میں دینے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد بدھ کو اس جگہ پر تعمیر نو کا سنگ بنیاد گاؤں کے مندر کے پجاری نے رکھا ۔

غور طلب ہے کہ ددسیا گاوں سے محض تین کلومیٹردوری پر واقع ٹیگا والی گاؤں میں بھی اس طرح کی ایک مثال دیکھنے کو ملی۔ گزشتہ مہینے ہندوں نے ایک مسجد کی مالی مدد کرتے ہوئے ایک ہال تیار کروایا تھا۔ ددسیا گاؤں کے عام لوگوں کاکہنا ہے کہ یہاں لوگ اتحاد واتفاق کے ساتھ رہتے ہیں اور یہاں کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں ہوتاہے اور نہ ہی آئندہ جھگڑے ہونے کی کوئی امید ہے۔ کیوں کہ لوگ یہاں آپس میں مل جل کرہی فیصلے لیتے ہیں۔

Loading...

Loading...