آسام کے گورنر کا متنازعہ بیان، کہا، ہندوستان ہندوؤں کے لئے، مسلمان کہیں بھی جانے کے لئے آزاد– News18 Urdu

آسام کے گورنر کا متنازعہ بیان، کہا، ہندوستان ہندوؤں کے لئے، مسلمان کہیں بھی جانے کے لئے آزاد

گوہاٹی۔ آسام کے گورنر پی وی آچاریہ نے اپنے بیان سے ایک نئے تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔

Nov 23, 2015 12:31 PM IST | Updated on: Nov 23, 2015 12:33 PM IST

گوہاٹی۔ آسام کے گورنر پی وی آچاریہ نے اپنے بیان سے ایک نئے تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔ گورنر آچاریہ نے کہا کہ ہندوستان ہندوؤں کے لئے ہے۔ گورنر نے اپنے بیان پر صفائی دینے کی کوشش میں تنازعہ کو مزید ہوا دے دی۔ انہوں نے صفائی دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہہ کر تنازعہ مزید بڑھا دیا کہ ہندوستانی مسلمان پاکستان جانے کے لئے آزاد ہیں۔ متنازعہ بیان کے بعد وزیر اعلی ترون گوگوئی نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وہیں، کانگریس نے آسام کے گورنر  کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے  کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی جنتاپارٹی کے مقرر کردہ گورنر آئینی اقدار کو بھول رہے ہیں اور آئینی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی وہ خود کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (ّر ایس ایس) کا پرچارک سمجھتے ہیں۔

آسام کے گورنر کا متنازعہ بیان، کہا، ہندوستان ہندوؤں کے لئے، مسلمان کہیں بھی جانے کے لئے آزاد

کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے یہاں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اگر یہ بیان کہ ’’ہندوؤں کے لئے ہندوستان ہے۔ اس میں تنازعے جیسی کوئی بات نہیں ہے‘‘، واقعی گورنر کا ہی ہے تو یہ بیحد افسوسناک ہے اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔آئینی عہدے پر فائزشخص اس طرح کا بیان دیتا ہو تو اس کی مذمت کے لئے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچ سنگھ کے پرچارک رہے آسام کے گورنر کی ہی نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے ایم پی، ایم ایل اے اور یہاں تک کہ مرکزی وزرا بھی لگاتار اسی طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔  انہوں نے اسے تفریقہ اندازی قرار دیا اور کہا کہ اسی سوچ کی وجہ سے ملک کی تقسیم ہوئی تھی۔ یہی عدم رواداری ہے اور بی جے پی کے رہنما ہی اس کے ذریعہ مقرر کئے گئے آئینی عہدوں پر فائز لوگ بھی اسی طرح کا بیان دے رہے ہیں۔

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ بی جے پی آسام کے انتخابات کے پیش نظر سیاسی صف بندی کی کوششوں میں مصروف ہوگئی ہے اور اس نے اب اس کوشش میں گورنر کو بھی شامل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو بہار کے انتخابی نتائج سے سبق لیتے ہوئے صف بندی کی سیاست سےتوبہ کرنی چاہئے۔

Loading...

Loading...