islamic scholar zakir naik says indian goverment pressurising interpol for red corner notice against me ns– News18 Urdu

میرے خلاف ریڈ کارنرنوٹس جاری کرنے کے لئے انٹرپول پردباو ڈال رہی ہے حکومت: ذاکرنائک

مانا جارہا ہے کہ ذاکرنائک ملیشیا میں ہیں۔ وہ سال 2016 میں ملک سے چلےگئے تھے، جب ان کی تنظیم اسلامک ریسرچ فاونڈیشن پرپانچ سال کےلئےمرکزی حکومت نے پابندی عائد کردی تھی۔

Apr 25, 2019 04:16 PM IST | Updated on: Apr 25, 2019 04:42 PM IST

اسلامک اسکالراورمبلغ ڈاکٹرذاکرنائک نے ہندوستانی حکومت پرالزام لگایا ہے۔ ذاکرنائک نےکہا ہے کہ حکومت ان کے خلاف انٹرپول سے ریڈ کارنرنوٹس جاری کرنے کےلئے دباو ڈال رہی ہے۔ ایک بیان جاری کرکے ذاکرنائک نےکہا کہ انٹرپول پرہندوستانی حکومت دباو ڈال رہی ہےتاکہ ان کےخلاف ریڈ کارنرنوٹس جاری ہوسکے۔

ذاکرنائک نےبیان میں دعویٰ کیا ہےکہ 'میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ ابھی تک میرے خلاف کوئی کارنرنوٹس نہیں جاری کی گئی ہے'۔ انہوں نے کہا 'ایک ہندوستانی نیوز ایجنسی نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہندوستانی حکومت کی اندرونی بات چیت کورپورٹ کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب گزشتہ دوسال سے زیادہ سے چل رہا ہے'۔

میرے خلاف ریڈ کارنرنوٹس جاری کرنے کے لئے انٹرپول پردباو ڈال رہی ہے حکومت: ذاکرنائک

ڈاکٹر ذاکرنائک: فائل فوٹو

Loading...

اسلامک اسکالرڈاکٹر ذاکرنائک نےکہا 'انٹرپول پہلے ہی ایک باران کے خلاف ریڈ کارنرنوٹس کومنسوخ کرچکا ہے۔ انہوں نے اپنےبیان میں کہا کہ 'حکومت کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے ہوئے اورانٹرپول پردباو ڈالتے ہوئے ڈیڑھ سال ہوگئے۔ حالانکہ حالات جیسے ہیں، اس سے میرے پاس یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ انٹرپول کسی دباومیں آئے گا'۔

واضح رہے کہ مانا جارہا ہے کہ ڈاکٹرذاکرنائک ملیشیا میں ہیں۔ وہ سال 2016 میں ملک سے چلےگئے تھے، جب ان کی تنظیم اسلامک ریسرچ فاونڈیشن پرپانچ سال کے لئے مرکزی حکومت نےپابندی عائد کردی تھی۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ان کے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔

Loading...