australia court verdict sperm donor will be the childs real father snm اسپرم ڈونر ہی ہوگا بچے کا اصلی والد، اسے ہی مستقبل طے کرنے کا حق– News18 Urdu

اسپرم ڈونر ہی ہوگا بچے کا اصلی والد، اسے ہی مستقبل طے کرنے کا حق

Jun 20, 2019 07:27 AM IST | Updated on: Jun 20, 2019 11:55 AM IST

اسپرم ڈونیٹ کرنے کا ایک معاملے میں آسٹریلیا کی ہائی کورٹ نے عجیب و غریب فیصلہ سنایا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ اسپرم ڈنیٹ کرنے والا شخص ہی بچے کا اصلی باپ ہوگا۔ اتنا ہی نہیں کورٹ نے کہا کہ ڈونر کو وہ سارے حق ہوں گے جن کیلئے وہ بچے کا مستقبل طے کرسکے۔۔ دراصل رابرٹ (اصلی نام نہیں ) نے  2006   میں اپنے  ہم  جنس  پرست  دوست  کو  اسپرم  ڈونیٹ  کیا  تھا تاکہ  وہ  بچہ پیدا کرسکے۔ جب بچی کا جنم ہوا تو اس پر تنازع پیدا ہوگیا۔ کورٹ نے کہا کہ کیوں کہ اسپرم ڈونر کا نام بچی کے جنم سرٹیفکیٹ میں لکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے بچی کے ساتھ سیدھا تعلق تو وہی اس بچی کا والد ہوا۔۔۔

بتادیں کہ اس معاملے  میں تنازع تب ہواجب 2015میں بچی کی ماں نے اپنے ہم جنس پرست پارٹنر کے ساتھ نیوزی لینڈ میں بسنے کی سوچی۔ اسپرم ڈونر رابرٹ نے اس خاتون کے اس فیصلے کے خلاف نچلی عدالت میں عرضی لگائی اور انہیں روکنے کی مانگ کی۔ اس معاملے میںکورٹ میں طویل سماعت چلی۔ اس کے بعد نچلی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ بچے پر حق ماں کا ہے۔ رابرٹ نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی۔

اسپرم ڈونر ہی ہوگا بچے کا اصلی والد، اسے ہی مستقبل طے کرنے کا حق

علامتی تصویر

Loading...

ہائی کورٹ نے بدھ کو اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو خارج کردیا۔ جج مارگریٹ کلیری نے کہا کہ نچلی عدالت کا فیصلہ سراسر غلط ہے۔ بچی کے برتھ سرٹیفکیٹ پر رابرٹ کا نام ہے اور ان دونوں کا تعلق روح سے ہے۔ کورٹ نے کہا کہ بھلے ہی رابرٹ بچی کے ساتھ نہیں رہ رہا تھا لیکن اس نے بچی کسا سارا خرچہ اٹھایا ہے۔ لہذا اسے ہی بچی کا اصلی باپ ماناجائے گا۔

Loading...