jammu kashmir shujaat bukhari Tribute mirwaiz farooq snm میرواعظ کا شجاعت بخاری کو خراج عقیدت، کہا وہ ایک بہادر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خیر خواہ بھی تھے– News18 Urdu

میرواعظ کا شجاعت بخاری کو خراج عقیدت، کہا وہ ایک بہادر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خیر خواہ بھی تھے

بتادیں کہ تین دہائیوں تک میڈیا سے وابستہ رہنے والے سید شجاعت بخاری کو 14 جون 2018ء کی شام نامعلوم بندوق برداروں نے پریس کالونی سری نگر میں اپنے دفتر کے باہر نزدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا تھا۔

Jun 14, 2019 03:34 PM IST | Updated on: Jun 14, 2019 03:34 PM IST

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے معروف کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کو اُن کی پہلی برسی کے موقع پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک بہادر و با اثر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے محسن و خیر خواہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں شجاعت بخاری جیسے نیک دل انسان تنازعے کی نذر ہوگئے ہیں۔ میرواعظ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: 'عزیز شجاعت بخاری کو اُن کی پہلی برسی پر بہت یاد کررہا ہوں۔ وہ ایک بہادر و بااثر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی انسان اور سب سے بڑھ کر لوگوں کے محسن و خیر خواہ بھی تھے۔ ہمارے یہاں شجاعت بخاری جیسے نیک دل انسان تنازعے کی نذر ہوگئے۔ اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے'۔

بتادیں کہ تین دہائیوں تک میڈیا سے وابستہ رہنے والے سید شجاعت بخاری کو 14 جون 2018ء کی شام نامعلوم بندوق برداروں نے پریس کالونی سری نگر میں اپنے دفتر کے باہر نزدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔ حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظین عبدالحمید اور ممتاز احمد کو بھی قتل کیا گیا تھا۔

میرواعظ کا شجاعت بخاری کو خراج عقیدت، کہا وہ ایک بہادر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خیر خواہ بھی تھے

شجاعت بخاری ۔ فائل فوٹو

Loading...

شجاعت بخاری انگریزی روزنامہ 'رائزنگ کشمیر'، اردو روزنامہ 'بلند کشمیر'، کشمیری روزنامہ 'سنگرمال' اور ہفتہ وار اردو میگزین 'کشمیر پرچم' کے مدیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کئی برسوں تک قومی انگریزی اخبار 'دی ہندو' کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد بالآخر سنہ 2008 میں 'رائزنگ کشمیر' شروع کیا تھا۔

شجاعت بخاری نے 'رائزنگ کشمیر' کی کامیاب شروعات کے بعد 'بلند کشمیر'، 'سنگرمال' اور 'کشمیر پرچم' کی اشاعت بھی شروع کی تھی۔ ان کے حوالے سے خاص بات یہ تھی کہ وہ تینوں زبان (انگریزی، اردو اور کشمیر) میں لکھتے تھے۔

Loading...