جیون سمواد: دکھ سے پیار اور سکھ

سکھ کے پاس وقت نہیں ہے، اسے تھوڑا۔تھوڑا سب کے پاس سے گزرنا ہے۔ جو چیز سب کیلئے ہوتی ہے وہ کسی ایک کو کیسے مل سکتی ہے! اس لئے سکھ ٹھہرتا نہیں وہ ایک مسلسل سفر میں ہے۔

Aug 13, 2019 07:12 PM IST | Updated on: Aug 13, 2019 07:14 PM IST
جیون سمواد: دکھ سے پیار اور سکھ

سکھ سے عارضی دنیا میں کوئی دوسری چیز نہیں۔ یہ اتنے عارضی ہوتے ہیں کہ پلک جھپکتے ہی گزرجاتے ہیں۔ محسوس کرنے کیلئے من ٹھہرا نہیں کہ سکھ گزر جاتا ہے۔ آرزو، منت،حسرت کے مشکل سفر سے جیسے ہی ہم سب تک پہنچتے ہیں اسی لمحہ لگتا ہے ، وہ کہیں نکل گیا۔ کون سا سکھ ایسا ہے جو ہمارے پاس بیٹھ کر تھوڑی سی گفتگو کرسکے۔ سکھ کے پاس وقت نہیں ہے، اسے تھوڑا۔تھوڑا سب کے پاس سے گزرنا ہے۔ جو چیز سب کیلئے ہوتی ہے وہ کسی ایک کو کیسے مل سکتی ہے! اس لئے سکھ ٹھہرتا نہیں وہ ایک مسلسل سفر میں ہے۔

سکھ  پرچھائی کی طرح ہے، دھوپ ڈھلتے ہی لوٹ جاتا ہے۔ دوسری جانب دکھ شام کے رنگوں کی طرح ہمارے اندر گھل جاتا ہے۔ اسی لئے دکھ لمبے، گہرے ہوتے ہیں، سکھ چھوٹے اور ہلکے ہوتے ہیں۔ کسی کے ساتھ سکھ، پریم(پیار) کتنا چھوٹا ہوتا ہے۔ جبکہ تنہائی اتنے گھنے ، گہرے ہوتے ہیں کہ روح پر ان کےنشان مٹاتے۔مٹاتے انسان کی زندگی اسے چھوٹی لگنے لگتی ہے۔

تو اس کا کیا کیا جائے۔ کیسے اس سے پار پایا جائے۔ جب آپ کے بچے کی نازک گردن میں جمی میل کو ہٹانا ہوتا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں۔ ہم بچے کے گردن کو ایک اور سہارا دیتے ہیں۔ دوسری طرف تھوڑی سختی سے میل صاف کرتے جاتےہیں۔

زندگی میں دکھوں سے نکلنے کا راستہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم دکھ سے تبھی نہیں نکل پاتے، جب اس سے نظریں چراتے رہتے ہیں۔ بچتے رہتے ہیں۔ جس بھی چیز سے ہمیں پیار ہوجاتا ہے، ہم اس سے آزاد(مکت) نہیں ہونا چاہتے۔ بھلے ہی وہ ہماری زندگی کیلئے کتنا ہی پریشان کن یعنی مشکلوں سے بھرا کیوں نہ ہو۔

Loading...

میں نے اس سے کہا، تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔ ٹہلنا تک مشکل ہے، سانسیں پھول جاتی ہیں،صحت جواب دے رہی ہے۔ اس نے کہا تھا، 'یہ سب تو میں بھی جانتی ہوں لیکن اپنے دکھ سے ہی پیار یوتا ہے۔ سگریٹ ایسا ہی دکھ ہے۔ ہم سب اصل میں اپنے بنائے، تھوپے دکھوں کے قرض دار ہیں۔

یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ ہم دکھوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم جن کا سامنا نہیں کرنا چاہتے ، اکثر ان سے نظریں جھکاتے،بچاتے ہیں۔ دھیرے۔دھیرے ہم اس چیز کے ساتھ ہو لیتے ہیں ، جس سے بچنا چاہتے ہیں۔ کبھی کسی ایسے نوجوان سے بات کیجئے، جسے ہیار کے بدلے اس کے مطابق پیار نہ ملا ہو۔ آپ اس سے لاکھ پوچھیں گے کہ کیا ہوا دکھی ہو؟ وہ کہے گا نہیں۔ آپ اس سے کہیں گے تم اس رشتے سے باہر نکل آئے؟ وہ کہے گا ہاں۔  جواب دیتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جو لکھا ہوتا ہے، اسے آپ آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ ہندستانیوں میں دکھوں کو پالے رکھنے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے۔ ہم کسی نہ کسی دکھ کی تلاش میں ہوتے ہیں جسے اوڑھا جا سکے۔ اس سے ہمیں ہمدردی ملتی ہے۔ لوگ ہمارا خیال رکھتے ہیں، دیکھو کتنا دکھی ہے، وہ!۔

اس نفسیات کے سبب ہی ہم سکھ سے محروم رہتے ہیں۔ ہم اندر سے کبھی قبول ہی  نہیں کر پاتے کہ ہم سکھی اورآزاد ہیں۔ کیونکہ ایسا کرتے ہی ہم وہ ہمدردی کھو بیٹھتے ہیں جو دکھی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسی لئے ہم انجانے میں دکھ اوڑھے رہتے ہیں۔

Email: dayashankarmishra2015@gmail.com

Address: Jeevan Sanvad (Dayashankar Mishr)

Network18

Express Trade Tower,3rd Floor, A Wing,

Sector 16, A, Film City, Noida (UP)

اپنے سوالات اور مشورے انباکس میں شئیر کریں

(https://twitter.com/dayashankarmi )(https://www.facebook.com/dayashankar.mishra.54 )

Loading...