کمل ناتھ نےقبول کیا بی جے پی کا چیلنج، حکومت فلورٹسٹ کےلئےتیار– News18 Urdu

کمل ناتھ نےقبول کیا بی جے پی کا چیلنج، حکومت فلورٹسٹ کےلئےتیار

مدھیہ پردیش اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے بی جے پی کے چیلنج پروزیراعلیٰ کمل ناتھ نےکہا کہ ہم پانچ ماہ میں چاربار اکثریت ثابت کرچکے ہیں، پانچویں باربھی تیارہیں۔

May 20, 2019 11:27 PM IST | Updated on: May 20, 2019 11:28 PM IST

مدھیہ پردیش اسمبلی میں حکومت کے اقلیت میں ہونے اوراکثریت ثابت کرنے کے بی جے پی کے چیلنج پروزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کہا کہ حکومت فلورٹسٹ کے لئے تیارہے۔ اس سے قبل مدھیہ پردیش بی جے پی نے گورنرکوخط لکھ  کراسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر گوپال بھارگونے کہا کہ یہاں بہت سارے مدعے ہیں۔ کانگریس ممبران اسمبلی اپنی پارٹی سے خوش نہیں ہیں، وہ پارٹی چھوڑنے کے لئے تیارہیں۔ اس سے حکومت کے پاس اکثریت نہیں بچے گی۔

کمل ناتھ نے کہا کہ بی جے پی پہلے دن سے ہی حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہم نے گزشتہ پانچ ماہ میں چارباراکثریت حاصل کیا ہے، وہ اگرایسا پھر چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ان کا پردہ فاش نہ ہو، اس لئے وہ موجودہ حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت فلورٹسٹ کے لئے تیارہے۔

کمل ناتھ نےقبول کیا بی جے پی کا چیلنج، حکومت فلورٹسٹ کےلئےتیار

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ: فائل فوٹو

Loading...

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں گزشتہ سال نومبر- دسمبرمیں ہوئے اسمبلی انتخابات میں ریاست میں 15 سال بعد کانگریس کی واپسی ہوئی ہے۔ الیکشن کے بعد کانگریس نے سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کی حمایت سے حکومت بنا لی تھی۔ اس وقت 230 ارکان مدھیہ پردیش اسمبلی میں کانگریس کے پاس 114 ممبران اسمبلی ہیں جبکہ  بی ایس پی کےدواورسماج پارٹی کے پاس ایک رکن اسمبلی ہے۔ وہیں بی جے پی کے کھاتے میں 109 سیٹیں گئی ہیں۔ کمل ناتھ نے سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کے ساتھ مل کرحکومت بنائی تھی، لیکن کمل ناتھ نے ایس پی - بی ایس پی کے ساتھ کسی بھی آزاد اراکین اسمبلی کو حکومت میں شامل نہیں کیا تھا، جبکہ اس بات کے لئے کمل ناتھ حکومت پرباربارحمایت واپس لینے کا دباو بھی بنایا جارہا تھا۔

وہیں دیرشام حکومت کے فلورٹسٹ کو لے کراپوزیشن لیڈرگوپال بھارگو نے وضاحت دی۔ انہوں نے نیوز18 سے خاص بات چیت میں کہا کہ انہوں نے خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ عوام سے منسلک مدعوں پربحث کرنے کے لئے کی ہے۔ گوپال بھارگوکے مطابق وہ ہارس ٹریڈنگ کے حق میں کبھی نہیں رہے اورنہ مول تول سے حکومت بنانے کے حق میں ہیں۔

Loading...