آخر کیوں بار بار بن جاتے ہیں ممبئی میں سیلاب جیسے حالات؟– News18 Urdu

آخر کیوں بار بار بن جاتے ہیں ممبئی میں سیلاب جیسے حالات؟

ممبئی میں جولائی کے پہلے ہفتہ میں جتنی بارش ہو چکی ہے اس میں اب ڈھائی درجن لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آ چکی ہیں اور معمول کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔

Jul 08, 2019 06:10 PM IST | Updated on: Jul 08, 2019 06:19 PM IST

گزشتہ دہائی یعنی 26 جولائی 2005 کا دن ممبئی میں ایک المیہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب ایک ہزار سے زیادہ لوگ بھاری بارش کے بعد سیلاب کی صورت حال کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ 2017 کے اگست مہینے میں ایک بار پھر ممبئی میں بھاری بارش کے بعد سیلاب جیسے حالات بنے اورتب بھی کئی جانیں گئیں۔ اس سال پھر ممبئی میں سیلاب کی صورت حال سے جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے۔ جولائی کے پہلے ہفتہ میں جتنی بارش ہو چکی ہے اس میں اب تک ڈھائی درجن لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آ چکی ہیں اور معمول کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔

تازہ خبر کے مطابق، محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگلے 24 گھنٹے ممبئی کے لئے اور پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ پروازیں ٹھپ ہو چکی ہیں، سڑکیں پانی سے بھری ہیں ، ریلوے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارموں پر پانی بھرا ہوا ہے۔ یعنی ممبئی ایک بار پھر مصیبت میں پھنس گئی ہے۔ بی ایم سی پانی نکالنے کے کام میں جٹی ہوئی ہے۔ دیگر راحتی کام بھی جاری ہیں لیکن سوال وہی اب بھی برقرار ہے کہ اس طرح کی مصیبت سے بچنے کے لئے آخر اب تک انتظامات کیوں نہ ہو سکے۔ جواب اس لئے بھی ٹیڑھا ہے کہ کیونکہ اس آفت کے پیچھے ایک نہیں کچھ زیادہ ہی پیچیدہ وجہیں ہیں۔

آخر کیوں بار بار بن جاتے ہیں ممبئی میں سیلاب جیسے حالات؟

آخر کیوں بار بار بن جاتے ہیں ممبئی میں سیلاب جیسے حالات؟

Loading...

ممبئی میں جو ڈرینیج سسٹم یعنی پانی کی نکاسی کا نظام ہے وہ 20 ویں صدی کے آغاز میں بنا تھا اور تب سے اس میں کوئی بڑا اصلاحاتی کام نہیں ہوا ہے۔ وقت وقت پر اس کی صفائی اور مرمت ہی انتظامیہ کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ 2005 میں جب ممبئی میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہوئی تھی تب بھی یہی سسٹم ولین ثابت ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس سسٹم کی صلاحیت تقریبا 25 ملی میٹر پانی فی گھنٹہ نکالنے کی ہے جب کہ بھاری بارش کے وقت ضرورت 993 ملی میٹر فی گھنٹہ تک کی ہو جاتی ہے۔ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جگہ جگہ پانی بھر جاتا ہے۔

Mission-pani-6

ممبئی میں جلدی جلدی سیلاب کی صورت حال پیدا ہونے کا دوسرا سب سے بڑا سبب شمالی ممبئی یعنی باندرہ اور کرلا کے آس پاس کے علاقوں میں بے ترتیب ترقیاتی کام کا کیا جانا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں بڑے بڑے بھون بغیر مناسب ڈرینیج سسٹم کے بنا دئیے گئے۔ منصوبہ بندی کے بغیر کئے گئے ان ترقیاتی کاموں کی وجہ سے یہاں کئی جگہوں پر پانی کی نکاسی کا نظم نہیں ہو پاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1990 کی دہائی میں ہی حکومت ہند کی وزارت ماحولیات کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ باندرہ۔ کرلا کمپلیکس کو منظوری دیے جانے سے مستقبل میں یہاں المناک واقعات ممکن ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی

ممبئی میں آفت کی بارش کے پیچھے ماحولیاتی تبدیلی کے سبب مانسون کے بدلے تیوروں کو بھی سبب مانا جا رہا ہے۔ سال 2017 میں بھی اس طرح کی رپورٹ آئی تھی اور تازہ حالات کو لے کر بھی ممبئی میونسلپٹی کے سربراہ پروین پردیشی کا بھی یہی ماننا ہے۔ ایک مطالعہ کے حوالہ سے کہا جا چکا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سبب بحر ہند سے نمی بھری ہواؤں کا چلن بدلا ہے جس کی وجہ سے وسطی ہندوستان میں بھاری بارش ہونے لگی ہے۔

Loading...