می ٹو- ایم جے اکبر کسی دور میں کانگریس پارٹی کے ترجمان ہوا کرتے تھے

ایم جے اکبر 2002 کے گجرات فسادات پر اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے نریندر مودی کے سب سے بڑے ناقد تھے لیکن بعد میں انہوں نے ’قبلہ‘ بدل لیا اور مارچ 2014 میں بی جے پی میں شامل ہو گئے

Oct 18, 2018 01:51 PM IST | Updated on: Oct 18, 2018 01:55 PM IST
می ٹو- ایم جے اکبر کسی دور میں کانگریس پارٹی کے ترجمان ہوا کرتے تھے

ایم جے اکبر: فائل فوٹو

 جنسی استحصال کے الزامات کی وجہ سے وزارت کے عہدہ سے استعفی دینے والے ایم جے اکبر 1989 میں کانگریس کے امیدوار کے طور پر پہلی بار بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ترجمان بھی رہے تھے۔ایک دور میں کانگریس کے ترجمان رہے ایم جے اکبر 2002 کے فسادات کے دوران گجرات کے سابق وزیر اعلی نریندر مودی کے بھی زبردست ناقد رہے تھے لیکن بعد میں وہ اسی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے۔

ایم جے اکبر 2002 کے گجرات فسادات پر اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے نریندر مودی کے سب سے بڑے ناقد تھے لیکن بعد میں انہوں نے ’قبلہ‘ بدل لیا اور مارچ 2014 میں بی جے پی میں شامل ہو گئے اور بی جے پی کی جانب سے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ بن کر سیاست کا سفر طے کرتے ہوئے 2016 میں مرکزی کابینہ میں اپنی جگہ بنا لی۔ راہل گاندھی کو’’ ہندوستانی سیاست کا بگڑا ہوا بچہ (اسپائلٹ چائلڈ آف انڈين ڈیموکریسی)" قرار دے کر اپنے آپ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظروں میں کافی اونچا اٹھا لیا تھا۔

دراصل اس وقت کانگریس وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف جارحانہ موقف اپنائے ہوئے تھی اور ایسے میں ایم جے اکبر نے کانگریس پر زور دار حملہ کرتے ہوئے کہا تھا’’کچھ تو شرم کرو ، ایک طرف تو ہمارے پاس ایک ایسے وزیر اعظم ہیں، ایک ایسا شخص جو اپنی ماں کا لاڈلا ہے اور دوسری طرف (سونیا گاندھی) ایک ایسی ماں ہے جس نے بیٹے کی اندھی محبت میں پہلے ہی کانگریس پارٹی کو تباہ کر دیا ہے اور اب ملک کو برباد کرنے کی کوشش میں ہے‘َ‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایم جے اکبر پربھاری پڑگئی آر ایس ایس کی ناراضگی، وزیراعظم کے حکم پرہوا استعفیٰ

Loading...

ان کی مشہور کتاب- ’’بلڈ برادرز‘‘ میں ہندوستان میں ہونے والے واقعات کی معلومات اور دنیا، خاص طور پر ہندو مسلم کے بدلتے تعلقات کے ساتھ تین نسلوں کی کہانی ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ بنگال اپنی خواتین کے جادو کے لئے مشہور ہے۔ یہ بھی المیہ ہی ہے کہ ایک سیاستداں کے طور پر ان کا کریئر خواتین کے الزامات سے متاثر ہوا ہے اور وزارت کے عہدہ سے استعفی دینا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: می ٹومہم: ایم جے اکبرکی مشکلوں میں اضافہ، ایک اورخاتون نے لگایا جنسی استحصال کا الزام

ان کے خلاف خواتین کا الزام ہے کہ جب وہ 1990 کی دہائی میں ’دی ایشین ایج ‘کے ایڈیٹر تھے تو اس وقت انہوں نے ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی تھی۔ ان پر الزام لگانے والی خواتین کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے۔ مختلف صحافی تنظیموں نے ان کے قانونی نوٹس جاری کرنے کے دوران 97 وکلا کی بھاری بھرکم ٹیم پر بھی طنز کیا تھا۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں، جس میں جواہر لال نہرو کی سوانح عمری ’دی میکنگ آف انڈیا‘ اور کشمیر پرمبنی ’دی سيز ودان‘کافی مقبول رہی ہے۔ پاکستان میں شناخت کے بحران اور طبقاتی جدوجہد کی عنوان پر ان کی کتاب-’ٹنڈربكس: دی پاسٹ اینڈ فیوچر آف پاکستان‘ جنوری 2012 میں شائع ہوئی ہے۔

Loading...