مغربی بنگال کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل خطرے میں : مسلم لیڈران– News18 Urdu

مغربی بنگال کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل خطرے میں : مسلم لیڈران

مغربی بنگال حکومت کے زیر انتظام چلنے والے مدارس میں ہزاروں طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر محکمہ ڈاک میں پوسٹ مین کیلئے نکلے پوسٹ میں مدارس کے سرٹیفکٹ کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد مدارس سے تعلیم یافتہ لاکھوں نوجوانوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا ہے ۔

May 08, 2018 12:05 AM IST | Updated on: May 08, 2018 12:05 AM IST

کولکاتہ۔مغربی بنگال حکومت کے زیر انتظام چلنے والے مدارس میں ہزاروں طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر محکمہ ڈاک میں پوسٹ مین کیلئے نکلے پوسٹ میں مدارس کے سرٹیفکٹ کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد مدارس سے تعلیم یافتہ لاکھوں نوجوانوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا ہے ۔محکمہ ڈاک کی جانب سے جاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال حکومت نے مدرسہ بورڈ سے جاری سرٹیفکٹ سے متعلق کوئی مثبت جواب نہیں ملنے کی وجہ سے مدرسہ بورڈ سے جاری سرٹیفیکٹ کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے ۔1994میں مغربی بنگال حکومت نے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ قائم کیا تھا اور اس کو سیکنڈری ایجوکیشن بوڈر کے برابر کا درجہ دیا گیا ہے ۔اس قانون کے تحت مدرسہ بورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء بھی دیگر بورڈ کے طلباء کی طرح سرکاری ملازمت کے اہل قرار دیا گیا تھا۔

سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹربیونل کورڈ میں اس معاملے میں پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ محمد سمیع احمد نے کہا کہ بنگال میں مدرسہ تعلیم کو ختم کرنے کیلئے ایک بڑی سازش رچی گئی ہے ۔اسی وجہ سے مرکزی حکومت کا ایک نمائندہ جب بنگال کے محکمہ تعلیم سے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے رپورٹ طلب کیا تو اس نے مدرسہ بورڈسے متعلق منفی رپورٹ دیا ۔

مغربی بنگال کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل خطرے میں : مسلم لیڈران

علامتی تصویر

اس پورے معاملے میں مغربی بنگال حکومت کا محکمہ اقلیتی تعلیم سے اس سلسلے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی آج عالیہ مدرسہ کے پرانے کیمپس میں میٹنگ ہوئی جس میں ممتا بنرجی مدرسہ تعلیم کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مدرسہ بچاؤ کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے ۔اس میٹنگ میں مغربی بنگال اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین انتاج علی شاہ سمیت کئی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔اگلے چند دنوں میں کمیٹی نے بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔میٹنگ کے شرکاء نے کہا کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے ۔اسی وجہ سے حکومت نے اس مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔

Loading...

مدرسہ طلباء تنظیم کے لیڈر عبد الغفار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں جس طریقہ سے مدرسہ نظام تعلیم کو ختم کیا جارہا ہے اسی طرح کاکام ممتا بنرجی کے زیر اقتدار میں بھی ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال محکمہ تعلیم نے بذات خود مرکزی حکومت کے محکمہ ڈاک کو رپورٹ دیا کہ مدرسہ تعلیم نظام غیر قانونی ہے ۔سوال یہ ہے کہ حکومت خود کیسے اپنے ادارے کو غیرقانونی قرار دے سکتی ہے ۔

Loading...