کرن بیدی کو عدالت کا جھٹکا، مدراس ہائی کورٹ نے کہا 'ایل جی کے پاس روزمرہ کےکاموں میں مداخلت کی طاقت نہیں'۔– News18 Urdu

کرن بیدی کو عدالت کا جھٹکا، مدراس ہائی کورٹ نے کہا 'ایل جی کے پاس روزمرہ کےکاموں میں مداخلت کی طاقت نہیں'۔

مدراس ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنرکرن بیدی کے پاس پڈوچیری حکومت کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مداخلت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔

Apr 30, 2019 03:24 PM IST | Updated on: Apr 30, 2019 03:33 PM IST

پڈوچیری کی کانگریس حکومت اورلیفٹیننٹ گورنرکرن بیدی کے درمیان جاری تعطل کے معاملے میں اب مدراس ہائی کورٹ نے مداخلت کی ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) کرن بیدی کے پاس مرکزکے زیراقتدارریاست کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مداخلت کرنے کی طاقت نہیں ہے۔

عدالت کی اس ہدایت کے بعد ایل جی کرن بیدی اس مرکزکے زیراقتدارریاست کی حکومت سے کسی بھی فائل کے بارے میں نہیں پوچھ سکتی ہیں۔ اس کےساتھ ہی وہ نہ توحکومت کو کوئی حکم دے سکتی ہیں اورنہ ہی حکومت کی طرف کوئی حکم جاری کرسکیں گی۔

کرن بیدی کو عدالت کا جھٹکا، مدراس ہائی کورٹ نے کہا 'ایل جی کے پاس روزمرہ کےکاموں میں مداخلت کی طاقت نہیں'۔

کرن بیدی(فائل فوٹو)۔

Loading...

واضح رہے کہ عدالت نے پڈوچیری کے وزیراعلیٰ وی نارائن سوامی اورکرن بیدی کے درمیان جاری سیاسی گھمسان اورحقوق کے دائرے سے متعلق ایک عرضی پرسماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے۔ نارائن سوامی کا الزام ہے کہ کرن بیدی کئی اہم پروجیکٹس سے متعلق فائلوں کوحکومت کے پاس نہیں بھیج رہی ہیں۔

کرن بیدی نے کیا کہا

عدالت کےتبصرہ کےبعد کرن بیدی نےکہا کہ وزیراعلیٰ کےالزام پوری طرح بے بنیاد ہیں۔ ایسا پہلی بارہوا ہے کہ حکومت عوام کےلئے کام کررہی ہے۔ ابھی ہم فیصلے کی کاپی کا انتظارکررہے ہیں اوراسے پڑھ کرہی جواب دیں گے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ نے بھی کہا ہےکہ وہ پہلے فیصلہ پڑھیں گے، اس کےبعد پھرکوئی ردعمل ظاہرکریں گے۔

پہلے سے ہی جاری ہے جنگ

واضح رہےکہ گزشتہ فروری میں وزیراعلیٰ نارائن سوامی اوران کی کابینہ نےکرن بیدی کی رہائش گاہ کے باہراحتجاج بھی کیا تھا۔ نارائن سوامی مسلسل الزام لگاتے رہے ہیں کہ کرن بیدی کئی عوامی فلاحی منصوبوں کوآگے نہیں بڑھنے دے رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کرن بیدی کی شکایت صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند اوروزیراعظم نریندرمودی سےبھی کی تھی۔

وزیراعلیٰ نے الزام لگایا ہےکہ کرن بیدی حکومت کےکاموں میں پرائیویٹ اداروں کوزیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔ کرن بیدی کےخلاف لگائےگئےالزامات کا ڈی ایم کےاوربھارتیہ کمیونسٹ پارٹی بھی حمایت کرتے رہے ہیں۔ واضح رہےکہ کرن بیدی نے اسی سال ایک تصویرٹوئٹ کرکے وزیراعلیٰ پرتنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا "کیا یہ قانونی ہےمسٹروزیراعلیٰ؟ اگرکوئی عام آدمی آپ کے دفترکے باہرایسا کرے تو کیسا لگے گا۔ آپ پولیس سے کیا کرنے کی امید کرتے ہیں؟ برائے مہربانی وہی کیجئے، کیا مقامی پولیس کارروائی کرے گی"۔

Loading...